Al-Risala · October 2000 · page 32

Forts, Legacies of the past.

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۰، صفحہ ۳۲

ہم وہ کام کریں جو خدا کی پیدا کی ہوئی گائے کرتی ہے۔ مولانا اسماعیل میرٹھی کا شعر ہے : کل جو گھاس چری تھی بن میں دودھ بنی وہ گائے کے تھن میں میں نے کہا کہ گائے کے اندر جو واقعہ نیچرل پر اس کے تحت ہوتا ہے وہی انسان کے اندر شعوری پر اس کے تحت ہونا چاہئے، یعنی تکلیف میں شکر کا پہلو نکال لینا۔ مصیبت میں راحت کی غذا حاصل کرنا، ناخوشگوار تجربات کو خوشگوار احساسات میں تبدیل کرنا، وغیرہ۔ اس طرح سفر کرتے ہوئے ہم لوگ سرا پا پہنچے۔ یہاں مدرسہ صدیقیہ میں خطاب کا پروگرام تھا۔ اس مدرسہ کو مولانا عبدالرحیم امدادی نے اپنے پیر و مرشد قاری محمد صدیق باندوی کے نام پر قائم کیا ہے۔ یہاں خطاب کا وقت ۱۰ بجے رات تھا۔ یہاں کافی لوگ اکٹھا ہو گئے۔ میں نے اس موقع پر ایک مفصل تقریر کی۔ میری تقریر کا موضوع تعلیم دین کی اہمیت تھا۔ میں نے کہا کہ تعلیم دین فرض کے درجہ میں ضروری ہے۔ تعلیم کا تعلق ایمان سے بہت گہرا ہے۔ ایمان کیا ہے، ایمان دراصل دین خدا کی صداقت کو شعوری اور روحانی طور پر دریافت کرنا ہے۔ یہ دریافت عام حالات میں علم کے بغیر نہیں ہوسکتی۔

کچھ لوگوں نے یہ شکایت کی کہ آپ ہمارے خطوط کے جواب نہیں دیتے۔ میں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے۔ میں ہمیشہ خطوط کا جواب دیتا ہوں، خواہ وہ مختصر کیوں نہ ہو۔ البتہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ خط میں لکھنے والے کا پتہ نہیں ہوتا، کبھی سوال واضح نہیں ہوتا، اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اس کو الرسالہ کے سوال و جواب " کے کالم میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ اس کا بھی امکان ہے کہ کوئی خط ڈاک کی خرابی کی وجہ سے مکتوب الیہ تک نہ پہنچاہو۔

مدرسہ صدیقیہ کے پروگرام میں حاضرین کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ یہاں کافی دیر ہو گئی۔ یہاں تک کہ رات کے بارہ بج گئے ۔ اس کے بعد ہم لوگ ساتھی کے لئے روانہ ہوئے۔ اندھیری رات تھی۔ ایک بجے کا وقت ہو چکا تھا۔ ہم چلتے ہوئے ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں ایک پہاڑی ندی واقع تھی۔ ایسی ندیوں میں پانی مستقل نہیں رہتا۔ بلکہ سال میں کبھی کبھی

‹ Previous page Next page › Contents of October 2000 All issues

Printed page