Forts, Legacies of the past.
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۰، صفحہ ۳۳
آ جاتا ہے۔ چنانچہ یہاں پل کے بجائے ڈھلوان سڑک بنا دی جاتی ہے۔ ہم لوگ وہاں پہنچے تو سڑک پر پانی پھیل چکا تھا۔ ہمارے ڈرائیور نے گاڑی کھڑی کر دی_ اس کا خیال تھا کہ پانی اتنا زیادہ ہے کہ ہماری گاڑی اس میں سے گزر نہیں سکتی_ اب یہ مشورہ ہونے لگا کہ راستہ بدل کر ایک اور سڑک سے چلا جائے، اگرچہ وہ راستہ لمبا ہے اور کم از کم دو گھنٹہ کی مسافت بڑھ جاتی ہے۔ ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ سڑک کے دونوں طرف جنگل پھیلے ہوئے تھے۔ اچانک پیچھے سے ایک روشنی دکھائی دی۔ معلوم ہوا کہ ایک جیپ ہمارے پیچھے آ رہی ہے۔ یہ واقعہ انوکھا تھا کیوں کہ سارے راستہ میں ہمیں کوئی بھی گاڑی دکھائی نہیں دی تھی_ ہم ایک سنسان سڑک سے گزرتے ہوئے یہاں تک پہنچے تھے_ ہماری گاڑی ندی کے کنارے کھڑی ہوئی تھی کہ اچانک جیپ آگے بڑھ گئی اور وہ فوراً دریا میں داخل ہو کر پانی سے گزرتی ہوئی سڑک کے دوسری طرف چلی گئی۔ یہ دیکھ کر ہمارے ڈرائیور کی سمجھ میں آیا کہ پانی اتنا زیادہ نہیں ہے کہ گاڑی اس سے گزر نہ سکے_ چنانچہ ہمارے ڈرائیور نے بھی گاڑی دریا میں ڈال دی_ چند منٹ میں ہم لوگ دریا کے اُس پار پہنچ چکے تھے۔ عجیب بات ہے کہ یہ جیپ ہمیں آگے دوبارہ کہیں دکھائی نہیں دی۔ اس منظر کو دیکھ کر مجھے اسماعیل میرٹھی کا ایک قطعہ یاد آیا:
گھوڑ دوڑ میں کدائی کی بازی تھی ایک دن ترکی پہ کوئی تازی پہ اپنے سوار تھا جو ہچکچا کہ رہ گیا سو رہ گیا ادھر جس نے لگائی ایڑ وہ خندق کے پار تھا رات مدرسہ ریاض العلوم ساتھی کے مہمان خانہ میں گزاری_ صبح کو فجر کی نماز مدرسہ کی مسجد میں ادا کی۔ امام نے دونوں رکعتوں میں سورہ الشمس اور سورہ البروج کی تلاوت کی_ نماز سے فارغ ہونے کے بعد ہم لوگ پٹنہ کے لئے روانہ ہو گئے۔
جب ہم پٹنہ میں داخل ہوئے تو گیارہ بج رہے تھے_ جناب ایم ٹی خان (ڈپٹی رجسٹرار) کی رہائش گاہ پر چند گھنٹہ قیام کیا۔ یہاں چند افراد کی ایک نشست میں مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ مثلاً ایک سوال یہ تھا کہ موجودہ زمانہ میں جب کہ پریس کا دور آ چکا ہے اور قرآن پوری طرح محفوظ
‹ Previous page Next page › Contents of October 2000 All issues