Al-Risala · October 2000 · page 34

Forts, Legacies of the past.

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۰، صفحہ ۳۴

ہو چکا ہے تو ایسی حالت میں تحفیظ قرآن کے مدارس کی کیا ضرورت ہے۔ میں نے کہا کہ تحفیظ قرآن کے ادارے آج کل جتنی کثرت سے قائم ہو رہے ہیں ان سے مجھے زیادہ اتفاق نہیں۔ لیکن خود یہ بات کہ قرآن کے حافظوں کا تسلسل ہر زمانہ میں امت میں جاری رہنا چاہیے، بے حد اہم ہے۔ کیوں کہ قرآن کی حفاظت سے مراد صرف اس کے لفظی متن کی حفاظت نہیں ہے بلکہ اس کے صوت اور اس کے لہجہ کی حفاظت بھی لازمی طور پر مطلوب ہے اور حفاظت قرآن کا یہ دوسرا پہلو اس کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا کہ امت میں قرآن کے حفظ اور قرأت کا سلسلہ برابر جاری رہے۔ ایک سوال یہ تھا کہ آپ نے اپنے دعوتی مشن کے تحت کوئی جماعت نہیں بنائی۔ پھر یہ مشن آپ کے بعد کیسے جاری رہے گا۔ میں نے کہا کہ جماعت یا ادارہ کسی مشن کے تحفظ کا ذریعہ نہیں۔ جماعت یا ادارہ کے ذریعہ جو چیز محفوظ ہوتی ہے وہ تحزُّب (گر وہ بندی) ہے نہ کہ اصولی معنوں میں کوئی مشن۔ میں نے کہا کہ مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ میرے بعد میرے نام پر کوئی متعصبانہ حزب بن جائے۔ میری دلچسپی مشن کے تحفظ سے ہے اور وہ اللہ کے فضل سے لٹریچر اور انٹرنٹ اور کیسٹ وغیرہ کی صورت میں ساری دنیا میں جاری ہے۔ مجھے یقین ہے کہ میرے بعد یہ سلسلہ مزید اضافہ کے ساتھ جاری رہے گا۔ آج ہر جگہ ایسے افراد پیدا ہو چکے ہیں جو اس مشن کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ سلسلہ یقینی طور پر جاری رہے گا۔ وہ کسی کے مرنے پر ختم نہیں ہو سکتا۔ پٹنہ سے دہلی کے لئے جہاز کا وقت تین بجے تھا۔ مولانا عبدالرحیم امدادی وغیرہ کے ساتھ ائر پورٹ پہنچا تو جہاز روانگی کے لئے تیار تھا۔ ائر پورٹ کے اندر داخل ہوتے ہی ایک آدمی نے پوچھا کہ آپ دہلی جا رہے ہیں۔ میں نے کہا، ہاں۔ اس نے میرا ٹکٹ لے کر فوراً بورڈنگ کارڈ بنوایا اور تیزی سے مجھے جہاز کے اندر پہنچادیا۔

میرے دل نے کہا کہ کاش آخرت میں بھی ایسا ہی ہو۔ وہاں بھی جب میں پہنچوں تو ایک فرشتہ میرے انتظار میں کھڑا ہو۔ وہ مجھ کو تیزی سے لے جائے اور جنت کا پروانہ دے کر مجھے جنت میں داخل کر دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2000 All issues

Printed page