Personally I have no problem.
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۰، صفحہ ۳۵
آج مئی کی ۔ ۲۷۷تاریخ تھی۔ جہاز میں پڑھنے کے لئے مختلف اخبارات تھے۔ ۲ مئی کے ایشین ایج میں مسٹر ٹی این مورتی کا ایک خط شائع ہوا تھا۔ یہ میچ فکسنگ (match fixing) کے بارے میں تھا۔ یعنی کسی میچ کی ہار جیت کو پیشگی طور پر طے کر لینا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ہندوستان کے کھلاڑی کس طرح صرف پیسہ کی خاطر پورے ملک کی عزت کو بیچ سکتے ہیں۔ پچھلے برسوں میں میچ فکسنگ کے واقعات نے پوری قوم کو اکسپوز کر دیا ہے۔ یہاں پچھلے پچاس سال سے دیش بھکتی کا غلغلہ جاری رہا ہے۔ مگر ایسا معلوم ہو تا ہے کہ حقیقی معنوں میں دیش بھکتی کا کہیں وجود نہیں۔ ساری کی ساری قوم خویش بھکت ہو رہی ہے نہ کہ دیش بھکت۔ ہوائی جہاز کے ائرکنڈیشنڈ کیبن میں ہمارا سفر جاری تھا یہاں تک کہ دلی قریب آگیا۔ اس وقت جہاز کے اندر اعلانات میں کہا گیا کہ جلد ہی ہم دلی میں اترنے والے ہیں۔ اس میں اناؤنسر نے یہ بھی کہا کہ دہلی کا موسم بہت گرم ہے: .The weather in Delhi is very hot یعنی ۴۱ ڈگری سنٹی گریڈ۔ میرے قریب دو بڑے تاجر آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ وہ کبھی پنجابی میں بولتے تھے اور کبھی انگریزی میں اس لئے میں پوری طرح سمجھ نہیں سکا کہ ان کی گفتگو کس موضوع پر تھی۔ البتہ مذکورہ اعلان کے بعد ایک شخص کی زبان سے یہ الفاظ سنائی دئے کہ ذاتی طور پر میرے لئے کوئی مسئلہ نہیں:
Personally I have no problem.
مجھے معلوم نہیں کہ کہنے والے نے یہ جملہ کس سیاق میں کہا تھا مگر مذکورہ اعلان کے بعد جب اس کی زبان سے یہ الفاظ سنائی دئے تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ وہ کہہ رہا ہو کہ دہلی کا موسم اگر بہت گرم ہے تو مجھے اس کی کوئی پریشانی نہیں۔ کیوں کہ یہاں میں ائرکنڈیشنڈ جہاز میں سفر کر رہا ہوں۔ دہلی ائر پورٹ پر اترتے ہی میرے لئے ائر کنڈیشنڈ گاڑی کھڑی ہو گی جو مجھے میرے ائر کنڈیشنڈ گھر میں پہنچادے گی اور وہاں سے دوبارہ میں ائرکنڈیشنڈ گاڑی میں سفر کرتے ہوئے اپنے ائرکنڈیشنڈ آفس میں پہنچ جاؤں گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2000 All issues