Al-Risala · October 2000 · page 36

Personally I have no problem.

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۰، صفحہ ۳۶

موجودہ ہندوستان میں اوپر کے طبقہ کی نفسیات عام طور پر یہی ہے۔ ان لوگوں نے آزادی کے بعد دولت کما کر اپنے ذاتی معاملہ کو خوب درست کر لیا ہے۔ اب انہیں یہ پریشانی نہیں کہ ملک کے بقیہ لوگ کس حال میں زندگی گزار رہے ہیں۔ یہی خود غرضانہ سوچ ہمارے ملک کے تمام مسائل کی اصل جڑ ہے۔ ۲۷ مئی ۲۰۰۰ کی شام کو میں واپس دہلی پہنچا تو یہاں ڈاک میں جو خطوط تھے ان میں سے ایک خط حیدر آباد کے ایک صاحب کا تھا۔ انہوں نے حیدر آباد کے اخبار روزنامہ سیاست (۱۵ مئی ۲۰۰۰) میں چھپے ہوئے ایک مضمون کی کٹنگ بھیجی تھی جس کا عنوان یہ تھا: ’’جذباتی نعروں کی سیاست اقلیتوں کے لئے مضرت رساں“ مکتوب نگار نے اپنے مفصل خط میں لکھا تھا:

”اخبار سیاست کے اس مضمون کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوا جیسے کہ وہ آپ کا ہی مضمون ہو جو کہ کئی برس پہلے پڑھا تھا۔ پھر دوبارہ پڑھ رہا ہوں۔ مگر اس فرق کے ساتھ کہ آپ کے نام کے بجائے اس پر کسی اور کا نام لکھ دیا گیا ہو۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح کے مضمون کو پڑھ کر ہر سطح کے لوگ ایک ہنگامہ کھڑا کر دیتے تھے۔ لیکن یہ اللہ کا آپ پر بڑا فضل رہا ہے کہ آپ کی زندگی میں ہی لوگ آپ کی فکر کی باتیں کہہ رہے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کی مسلسل کوشش اللہ کے فضل سے رنگ لارہی ہے، بلکہ سمجھے کہ لاچکی ہے۔ “ سفر سے واپسی کے بعد وہاں سے کئی لوگوں کے خطوط موصول ہوئے۔ ان میں سے ایک جناب اسلم احمد (بتیا، چمپارن) کا خط تھا۔ اس خط کے بعض حصے یہاں نقل کئے جاتے ہیں۔

”میں ایک Commercial Bank (بینک آف انڈیا) میں کام کرتا ہوں۔ میرا واسطہ بہت سے لوگوں سے پڑتا ہے جس میں ہندو اور مسلمان سبھی ہوتے ہیں۔ میری ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ ان میں جو پڑھے لکھے لوگ ہیں ان کو الرسالہ کے مشن سے واقف کر لیا جائے۔ اس کے لئے میں ان لوگوں کو آپ کی کتابیں ہدیتاً دیتا رہتا ہوں۔ اس سلسلہ میں میں نے اپنے شہر کے

‹ Previous page Next page › Contents of October 2000 All issues

Printed page