Al-Risala · October 2000 · page 42

Personally I have no problem.

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۰، صفحہ ۴۲

برباد کرنا ہے۔ اس طرح کی باتوں سے ذہن سازی نہیں ہوتی بلکہ ایمان و یقین کی دولت سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ (طارق اشفاق ، اے ۔ ایم ۔ یو ، علی گڑھ )

جواب

اس سوال کا جواب کچھ ممتاز فلسفیوں نے خود ہی کامیاب طور پر دے دیا ہے۔ مثال کے طور پر برٹش فلسفی برٹرینڈ رسل نے۔ آپ اس کی کتاب علم انسانی (Human Knowledge) کو گہری نظر سے پڑھیں تو آپ اس میں اپنے سوال کا جواب پالیں گے۔

اصل یہ ہے کہ فلسفہ کم از کم ۵ ہزار سال سے حقیقت کی تلاش میں سرگرم رہا ہے مگر اس کو کبھی حقیقت کی دریافت نہ ہو سکی۔ اس کے برعکس سائنس کو موجودہ زمانہ میں زبردست کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اس کا راز یہ ہے کہ فلسفہ علم کلی تک پہنچنا چاہتا تھا جو موجودہ دنیا میں ممکن ہی نہ تھا۔ سائنس نے اسی حقیقت کو دریافت کر کے علم جزئی پر قناعت کر لی اس لئے وہ کامیاب ہو گئی۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایکس رے مشین کے سامنے ایک آدمی کو کھڑا کر کے جب مشین کی سوئچ دبائی جاتی ہے تو فوراً ایک پلیٹ پر آدمی کی داخلی تصویر آ جاتی ہے۔ اب فلسفی یہ جاننا چاہے گا کہ ایسا واقعہ کیوں کر ہوا! چونکہ انسان کی اپنی محدودیتوں (limitations) کی بنا پر اس علم تک پہنچنا ممکن نہیں اس لئے فلسفی ابدی طور پر اس میں الجھ کر رہ جائے گا۔ اس کے حصہ میں آخر کار کنفیوزن کے سوا اور کچھ نہ آئے گا۔ اس کے برعکس سائنس نے یہ کیا کہ "کیوں" کے سوال کو الگ کر کے "کیا ہے" کو لے لیا۔ اس طرح وہ اس میں کامیاب ہو گئی کہ انسانی تمدن کو ایک قیمتی تحفہ دے سکے۔

اس معاملہ میں حقیقت پسندی کی بات یہ ہے کہ آدمی اجمالی علم پر اکتفا کرے۔ وہ جزئی علم پر راضی ہو جائے اور کلی علم کے پیچھے بے فائدہ طور پر نہ دوڑے ۔ قرآن میں اسی حقیقت کو ایک سوال کے جواب میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ تم کو اس دنیا میں صرف علم قلیل دیا گیا ہے۔ (بنی اسرائیل) اس مضمون کی تفصیل کے لئے راقم الحروف کی کتاب "مذہب اور سائنس " کا مطالعہ کریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2000 All issues

Printed page