Personally I have no problem.
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۰، صفحہ ۴۳
سوال
ایک حدیث اس طرح ہے کہ ”حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے خدا کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا کہ اس وقت تک دنیا ختم نہ ہوگی جب تک لوگوں پر ایسا دن نہ آئے گا کہ قاتل کو یہ علم نہ ہوگا کہ میں نے کیوں قتل کیا اور مقتول یہ نہ جانے گا کہ میں کیوں قتل ہوا۔ کسی نے عرض کیا کہ ایسا کیوں ہوگا۔ ارشاد فرمایا کہ فتنوں کی وجہ سے قتل بہت بڑھ جائے گا۔ پھر ارشاد فرمایا ان فتنوں میں قتل کرنے والا اور قتل ہونے والا دونوں جہنم میں داخل ہوں گے۔ “ اس حدیث میں قتل کرنے والا اور قتل ہونے والا دونوں کے جہنم میں داخل ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ قتل کرنے والا جہنم میں جائے گا یہ تو سمجھ میں آتا ہے لیکن قتل ہونے والا جہنم میں جائے گا، یہ سمجھ میں نہیں آتا۔ حدیث کا اصل مفہوم کیا ہے۔ براہ کرم مطلع فرمائیں۔ (خورشید احمد، شوپیاں) جواب اس اشکال کا جواب خود حدیث میں موجود ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ کے اس ارشاد کو سننے کے بعد صحابہ نے آپ سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول قاتل کا جہنم میں جانا تو معلوم ہے مگر مقتول جہنم میں کیوں جائے گا۔ اس کے جواب میں آپ نے فرمایا: کل واحد منهما يريد قتل صاحبه (النسائی، تحریم القتل) یعنی ان دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کو قتل کرنا چاہتا تھا۔
قتل کا ایک واقعہ وہ ہے جب کہ قاتل یک طرفہ طور پر مجرم ہو اور مقتول یک طرفہ طور پر بے قصور۔ مگر جب بگاڑ بڑھ جائے تو معاملہ یک طرفہ (unilateral) نہیں رہتا بلکہ دو طرفہ (bilateral) ہو جاتا ہے۔ یعنی اپنی حقیقت کے اعتبار سے دونوں یکساں طور پر سرکش ہوتے ہیں اور یہ صرف اتفاق کی بات ہے کہ اس دو طرفہ سرکشی کے دوران ایک شخص مارا گیا اور ایک شخص بچ گیا۔ اس دوسری صورت میں ظاہر ہے کہ دونوں ہی اللہ کے نزدیک مجرم قرار پائیں گے کیوں کہ اسلام کا مسلمہ اصول یہ ہے کہ عمل کا دار ومدار نیت پر ہے (انما الاعمال بالنيات)۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2000 All issues