Al-Risala · October 2000 · page 44

Personally I have no problem.

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۰، صفحہ ۴۴

سوال

قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مدین سے واپسی پر نبوت عطا کی گئی۔ لیکن اس وقت ان کو تو رات نہیں دی گئی۔ فرعون اور اس کی قوم کے دریائے قلزم میں غرق ہونے کے بعد کوہ طور پر چالیس روز کا اعتکاف کرنے کے بعد ان کو تو رات دی گئی۔ اس کی صراحت قرآن میں کئی مقام پر آئی ہے ایک جگہ ارشاد ہوا ہے۔ اور ہم نے اگلی قوموں کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ کو کتاب عطا کی جو لوگوں کے لئے بصیرت، ہدایت اور رحمت تھی تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ (القصص ۴۳) اس آیت کے "القرون الاولیٰ" کے فقرے کے بارے میں ایک تفسیر یہ آئی ہے: یعنی اگلی قوموں سے مراد قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود وغیرہ ہیں۔ اور کہا جاتا ہے کہ فرعون اور اس کی قوم کی ہلاکت کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کتاب عطا کی گئی۔ (زبدۃ التفسیر من فتح القدیر، للامام الشوکانی ۵۱۲) نزول تو رات سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت ودعوت کے اولین مخاطب فرعون اور اس کی قبطی قوم تھی۔ اس دعوت کے دوران حضرت موسیٰ علیہ السلام ان کو کس قسم کی تعلیمات بتاتے تھے اور ان کا ذریعہ کیا تھا۔ قرآن سے اس کی صراحت نہیں ملتی۔ کیوں کہ تو رات ان کی ہلاکت کے بعد نازل ہوئی۔ کہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام وہی چیز ان کے سامنے پیش تو نہیں کرتے تھے جسے ہم شریعت اسلامی میں سنت یا وحی غیر متلو کہتے ہیں؟ میری اس الجھن کو دور فرمائیں۔ (غلام نبی، ہری نگر) جواب حضرت موسیٰ علیہ السلام کا معاملہ وہی ہے جو دوسرے تمام پیغمبروں کا معاملہ تھا۔ مصر میں وہ ابھی دورِ دعوت میں تھے اور دور دعوت میں ہر پیغمبر اپنی قوم کو صرف توحید کا پیغام پیش کرتا ہے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ نے بھی فرعون اور قوم فرعون کے سامنے توحید کا پیغام پیش کیا۔ جہاں تک تو رات کا تعلق ہے وہ احکام کا مجموعہ ہے۔ اس طرح کے احکام ہمیشہ اس وقت اترتے ہیں جب کہ اس کے موافق معاشرہ بن چکا ہو۔ بنی اسرائیل جو اس وقت کے اہل ایمان تھے، جب

‹ Previous page Next page › Contents of October 2000 All issues

Printed page