Personally I have no problem.
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۰، صفحہ ۴۵
وہ صحرا ء سینا میں آباد ہوئے اس وقت وہاں ان کا معاشرہ قائم ہوگیا۔ چنانچہ حضرت موسیٰ کے مشن کے اس دوسرے مرحلے میں تورات کی صورت میں شرعی احکام انہیں دے دیے گئے۔ یہی معاملہ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی پیش آیا۔ مکہ میں مرحلہ دعوت میں تھے۔ چنانچہ اس وقت آپ مکہ کے مشرکین کو توحید کا پیغام دیتے رہے۔ ہجرت کے بعد مدینہ میں جب اہلِ ایمان کا معاشرہ قائم ہو گیا، اس وقت آپ پر احکام نازل کئے گئے۔ سوال کچھ لوگ کہتے ہیں کہ : دنیا بقدر مقدر، اور دین بقدر مشقت۔ اس معاملہ کی حقیقت کیا ہے براہ کرم وضاحت فرمائیں (پرویز اختر صدیقی ۔ مہادیو روڈ، آگرہ)
جواب
اس معاملہ میں صحیح بات یہ ہے کہ دنیا بقدر امتحان، اور دین بقدر اخلاص۔ وہ تمام چیزیں جن کو دنیا کہا جاتا ہے وہ سب امتحان کا پرچہ ہیں، مثلاً مال، اولاد، شہرت، مقبولیت، عہدہ اور اقتدار۔ اللہ کو جس چیز میں جس آدمی کا امتحان لینا منظور ہوتا ہے وہ چیز اس کو دے دی جاتی ہے۔ دنیا کی محرومی نہ تو سزا کے لئے ہے اور نہ دنیا کی فراوانی انعام کے لئے۔ دونوں ہی یکساں طور پر امتحان کے لئے ہیں۔
جہاں تک دین کا معاملہ ہے وہ تمام تر اخلاص پر مبنی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ کوئی نقشۂ محنت ہے اور اس نقشہ کے مطابق جو آدمی پریکٹس کرے اس کو پریکٹس کرتے کرتے دین مل جائے گا۔ صحیح بات یہ ہے کہ اللہ کی نظر آدمی کے اندرونی اخلاص پر ہوتی ہے۔ جس آدمی کے اندر جتنا اخلاص ہوتا ہے اسی کے بقدر وہ اللہ کی توفیق سے دین میں ترقی کرتا رہتا ہے۔ گویا کہ اس معاملہ میں صحیح فارمولا یہ ہے کہ دنیا بقدر امتحان اور دین بقدر اخلاص۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2000 All issues