Personally I have no problem.
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۰، صفحہ ۴۶
خبرنامہ اسلامی مرکز ۳۹
ڈاکٹر پرکاش لوئی جو انڈین سوشل انسٹی ٹیوٹ میں ریسرچ فیلو ہیں۔ انہوں نے اپنے پروجیکٹ کے سلسلہ میں ۱۰ جون ۲۰۰۰ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ اس کا موضوع تھا’’اسلامک فنڈ منٹلزم‘‘۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ موجود ہ فنڈمنٹلزم یا اسلامک ایکستریزم (Islamic Extremism) کا ماخذ قرآن و سنت نہیں۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ مسلم قوم پرستی کا ایک ظاہرہ (phenomenon) ہے۔ کچھ مسلمانوں کی سیاسی حوصلہ مندی نے اس قسم کی تحریکیں پیدا کی ہیں۔ جس کو جائز ثابت کرنے کے لئے انہوں نے اس کو اسلامی نام دے دیا ہے۔
۲۔ ۱۵جون ۲۰۰۰ کو گول مارکیٹ (نئی دہلی) میں تعلیم یافتہ مسلمانوں کا ایک اجتماع ہوا۔ صدر اسلامی مرکز نے یہاں سیرت کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ قرآنی آیات کی روشنی میں یہ بتایا گیا کہ آج کے حالات میں سیرت رسول کا سبق کیاہے۔ ۳۔
ڈاکٹر جیسیکا ایوا سٹرن (Jessica Eve Stern) نے ۱۶ جون ۲۰۰۰ کو دہلی میں صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی۔ وہ ہارورڈ یونیورسٹی کے انٹر نیشنل افیرس ڈپارٹمنٹ میں سینئر فیلو ہیں۔ وہ جہاد اور ٹررزم کے مسئلہ پر ریسرچ کر رہی ہیں۔ مفصل انٹرویو کے دوران جو باتیں انہیں بتائی گئیں ان کا خلاصہ یہ تھا کہ جہاد اور جنگ ہم معنی الفاظ نہیں ہیں۔ جہاد کے لفظی معنی کوشش کے ہیں۔ اس سے مراد اصلا پر امن دعوتی جدوجہد ہے۔ جنگ اسلام میں صرف دفاع کے لئے ہے اور وہ بھی قائم شدہ حکومت کی طرف سے نہ کہ عوام کی طرف سے۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ آج کل مختلف مسلم ملکوں میں ’’اسلامی نظام قائم کرو‘‘ کے نام پر مسلمانوں اور مسلم حکمرانوں میں جو لڑائی جاری ہے وہ اسلام میں قطعاً جائز نہیں۔ اسلام کی ۱۴ سو سالہ تاریخ میں کبھی علماء نے اس قسم کی جنگ نہیں چھیڑی۔ یہ صرف بیسویں صدی کے بعد بعض نام نہاد اسلام پسند رہنما ہیں جنہوں نے قرآن کی بعض آیتوں
‹ Previous page Next page › Contents of October 2000 All issues