بھاری قیمت
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰
کے حکم کو توڑا ہوگا، جنھوں نے دنیوی ترغیبات (temptations) کی خاطر آخرت کے تقاضوں کو نظر انداز کیا ہوگا، جنھوں نے ابدی فائدوں کے مقابلہ میں وقتی فائدوں کو ترجیح دی ہوگی، وہ جب آخرت میں اپنی اس غلطی کا بھیانک انجام دیکھیں گے تو اچانک ان کا سارا قلعہ دھڑام سے گر جائے گا۔ وہ کہیں گے کہ کاش ہم نے وقتی محرومی کو برداشت کر لیا ہوتا تو ہم کو ابدی تباہی اور محرومی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
قرآن میں انسانیت کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہرگز نہیں، بلکہ تم چاہتے ہو جلد آنے والی (عاجلہ) کو۔ اور تم چھوڑتے ہو دیر میں آنے والی (آخرت) کو۔ (القیامہ ۲۰-۲۱) اسی طرح قرآن میں دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے: یہ لوگ جلدی ملنے والی چیز (عاجلہ) کو چاہتے ہیں۔ اور انہوں نے چھوڑ رکھا ہے اپنے پیچھے ایک بھاری دن کو (الدهر ۲۷۲)
موجودہ دنیا میں آدمی کے سامنے جب کوئی خوشنما چیز آتی ہے تو وہ اس کی طرف اتنا زیادہ راغب ہوتا ہے کہ وہ نہیں (no) کہنے کی ہمت نہیں کر پاتا، وہ اس میں ملوث ہو جاتا ہے۔ مگر موت کے بعد وہ دیکھے گا کہ ایک انتہائی وقتی خوشی کی قیمت اس کو ابدی محرومی کی صورت میں ادا کرنی پڑے گی تو وہ ہرگز ایسا نہ کرتا۔ مگر اس وقت وہ اپنی اس نادانی پر افسوس کرے گا مگر اس وقت افسوس کرنا اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues