Al-Risala · November 2000 · page

صحیح طرزِ فکر

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰

صحیح طرزِ فکر

میں نے تقریباً ہر موضوع کا مطالعہ کرنے کی کوشش کی۔ اس مطالعہ کے دوران میں اُس موضوع تک پہنچا جس کو آرٹ آف تھنکنگ (art of thinking) کہا جاتا ہے۔ اس پر میں نے بہت سی کتابیں پڑھیں۔ اس سے مجھے معلوم ہوا کہ عملِ تفکیر (thinking process) کو درست طور پر چلانے کے لئے سب سے پہلی بات یہ ہے کہ آدمی یہ جانے کہ سوچنے کا درست طریقہ کیا ہے۔ ورنہ برسوں کی ذہنی کاوش کے باوجود وہ صرف کنفیوزن (confusion) میں مبتلا رہے گا۔ اگر چہ اپنے خیال کے مطابق وہ یہی سمجھے گا کہ میں سوچنے کا عمل کر رہا ہوں۔ کسی معاملہ میں صحیح نقطہ نظر تک پہنچنے کی یہ سب سے زیادہ ضروری شرط ہے۔

اس سلسلہ میں پہلی بات یہ ہے کہ آدمی کو یہ جاننا چاہئے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں ہے جس کو اس نے خود نہیں بنایا ہے بلکہ کسی اور نے اس کو اپنے نقشہ کے مطابق بنایا ہے۔ ہمارے عقیدہ کے مطابق یہ بنانے والا خدا ہے۔ اور خدا نے غیر مبہم الفاظ میں یہ اعلان کیا ہے کہ علم ایک کثیر خزانہ ہے جس کا صرف قلیل حصہ انسان کو دیا گیا ہے۔ (بنی اسرائیل ۸۵)

لمبی مدت کے تجربہ کے بعد جدید سائنس نے اس حقیقت کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ہے: Science gives us but a partial knowledge of reality. یہاں میں ایک متقابل مثال دوں گا۔ ہم جانتے ہیں کہ ۵ ہزار سال کی مسلسل کوشش کے باوجود فلسفہ کا کوئی حاصل (achievement) نہیں۔ اس کے برعکس سائنس نے دنیا کو بہت زیادہ چیزیں دی ہیں۔ اس فرق کی واحد وجہ یہ ہے کہ فلسفہ نے اس حقیقت کا اعتراف نہیں کیا کہ وہ صرف جزئی علم تک پہنچ سکتا ہے، اس کو جزئی علم پر قناعت کرتے ہوئے کلی رائے قائم کرنا ہے۔ اس کے برعکس سائنس نے علمی قناعت کا یہی طریقہ اختیار کر لیا۔ اسی کا نتیجہ وہ تمام مادی ترقیاں ہیں جو موجودہ زمانہ میں سائنس کے ذریعہ انسان کو ملیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues

Printed page