Al-Risala · November 2000 · page

ہریا نہ کا سفر

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰

ادارے، حوصلہ بڑھانے والا ماحول، عمدہ سڑکیں، ٹیلی فون اور بجلی کی عمدہ سہولت، معاون انتظامیہ، سرکاری پابندیوں سے آزاد ماحول، ہر آدمی کے لئے ترقی کے یکساں مواقع، صحت سے تعلق رکھنے والی چیزوں کی آسان دستیابی، امن اور تحفظ کا ماحول وغیرہ۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں مختلف قسم کے نظریاتی جنون کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں سے کوئی بھی کام درست طور پر نہ ہوسکا۔ البتہ دوسرے غیر متعلقین عنوانات پر دھوم مچائی جاتی رہی۔

۱۲۵ کلومیٹر کا یہ سفر غیر متوقع طور پر نہایت خوشگوار موسم میں ہوا۔ ہلکی بارش، آسمان میں بادلوں کی ٹکڑیاں، اس قسم کے مناظر یاد دلار ہے تھے کہ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں قدرت نے پانی کی نعمت کو وافر مقدار میں فراہم کیا ہے۔ اس کے باوجود کیوں ایسا ہے کہ آج کل ہمارے ملک کا تقریباً ایک تہائی حصہ پانی کی شدید کمی کی زد میں ہے۔ بہت سے مقامات پر انسان سے لے کر مویشی اور فصلوں تک سب پانی کی کمی کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس کا سبب قدرت نہیں ہے بلکہ ہماری انتظامی نا اہلی ہے۔ ہندوستان میں کثرت سے بارشیں ہوتی ہیں مگر اس پانی کا صرف چھ فیصد حصہ ہمارے حصہ میں آتا ہے۔ باقی سارا پانی بہہ کر سمندروں میں جا گرتا ہے۔

شہری علاقوں میں آج کل ایک نئی مصیبت یہ سامنے آئی ہے کہ زمینی پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے چلی گئی ہے۔ دہلی بھی انہیں شہروں میں شامل ہے۔ اس کا بڑا سبب یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں نہایت غیر منصوبہ بند انداز میں شہروں کو سیمنٹ کنکریٹ کا جنگل بنا دیا گیا ہے۔ چنانچہ جب بارش ہوتی ہے تو پانی کا بہت کم حصہ زمین میں جذب ہو کر نیچے پہنچتا ہے۔ اس کا بڑا حصہ بہہ کر باہر نکل جاتا ہے۔ قدرت نے ہندوستان کے ساتھ اتنی زیادہ فیاضی کی تھی کہ یہاں کبھی پانی کی کمی نہ ہو۔ مگر فطرت کے نظام کو مصنوعی اسکیموں کے ذریعہ بگاڑ دیا گیا جس کا نتیجہ پانی کی بھیانک قلت کی شکل میں برآمد ہوا۔

ہماری پہلی منزل پانی پت تھی ۔ ہم لوگ پانی پت میں داخل ہوئے تو سڑک کے دونوں طرف خوبصورت مکانات کا سلسلہ دکھائی دیا۔ یہ پچھلے کچھ برسوں کا کرشمہ ہے۔ پانی پت میں ہینڈ

‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues

Printed page