God is the same yesterday, today and forever.
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰
لوم اور اون کا بزنس بہت کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ اس خوشحالی کے اثرات شہر میں ہر طرف دکھائی دیتے ہیں۔
پانی پت میں ہم لوگ مسٹر بلراج ملک ایڈوکیٹ کی رہائش گاہ پر تھوڑی دیر کے لئے ٹھہرے۔ وہ سرو دھرم ایکتا مشن کے جنرل سکریٹری ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ مشن آپ کے لئے ایک وقتی مشن ہے یا وہ آپ کی پوری زندگی کا مشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تو یہ سوچ کر یہاں آئے ہیں کہ منزل دور ہے اور ہمیں چلتے ہی رہنا ہے۔ میں نے کہا کہ یہی سچی مشینری اسپرٹ ہے۔ مشن ساری عمر کے لئے ہوتا ہے، وہ تھوڑے دن کے لئے نہیں ہوتا۔
پانی پت میں کئی لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ ایک صاحب نے بات چیت کے دوران کہا کہ یہاں کافی انٹرنیشنل تھنکنگ پائی جاتی ہے۔ یہاں کے ایک صاحب نے کہا کہ یہاں کے لوگوں کا انٹر ایکشن ہر روز ڈائرکٹ یا انڈر ارکٹ دوسرے دیشوں سے ہوتا رہتا ہے۔ ہمارا کاروباری سمبندھ ساری دنیا سے جڑا ہوا ہے۔ ایسی حالت میں اپنے آپ یہ سوچ لوگوں میں آ جاتی ہے کہ جب ہم ایک دوسرے پر زبہر ہیں تو پھر آپس میں نفرت کیسی۔
موجودہ زمانہ تیز رفتار کمیونی کیشن کا زمانہ ہے۔ آج یہ حالت ہے کہ دنیا کے ایک کونے میں ایک ترقی ہو تو فوراً وہ دوسرے کونے میں پہنچ جاتی ہے۔ ایک سائنس داں انسانیت کے فائدے کی ایک چیز دریافت کرتا ہے تو اس کی دریافت بہت جلد تمام انسانوں کے لئے قابل قبول بن جاتی ہے۔
مسٹر بلراج ملک کے کمرہ میں ایک قدرتی منظر کی تصویر فریم کر کے دیوار پر لگی ہوئی تھی اس کے ساتھ یہ جملہ لکھا ہوا تھا:
God is the same yesterday, today and forever.
عام ذوق کے خلاف ان کے کمرے میں مورتی وغیرہ کی تصویر نظر نہیں آئی۔
پانی پت کی سڑکیں دوسرے شہروں سے اچھی دکھائی دیں۔ سڑک پر ٹریفک بھی
‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues