Al-Risala · November 2000 · page

God is the same yesterday, today and forever.

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰

ضابطہ کے مطابق تھی۔ آگے والا آسانی سے پیچھے والے کو سائیڈ دیتا تھا۔ سڑک کے دونوں طرف خوبصورت مکان اور دفتر دکھائی دئے جو گو یا خوشحالی کی علامت تھے ۔ میں نے یہاں کے ایک صاحب سے پوچھا کہ پانی پت اور ہریانہ کی ترقی میں عوام کا کتنا ہاتھ ہے اور حکومت کا کتنا۔ انہوں نے کہا کہ ففٹی پرسنٹ عوام کا اور رففٹی پرسنٹ گورنمنٹ کا۔ میں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی گورنمنٹ صرف ففٹی پرسنٹ ہی کرسکتی ہے۔ بقیہ ففٹی پرسنٹ عوام ہی کو کرنا پڑتا ہے۔ عوام اگر اپنے حصہ کا کام ٹھیک طور پر نہ کریں تو تنہا گورنمنٹ کی مدد کوئی نتیجہ پیدا نہیں کرسکتی۔

نوجوانی کی عمر میں جب میں نے پانی پت کا نام سنا تو اس کے ساتھ جنگی واقعات کی داستانیں شامل تھیں ۔ پانی پت کے میدان میں قدیم زمانہ میں کئی جنگیں پیش آئی ہیں۔ پانی پت کا لفظ میرے ذہن میں انھیں خونیں قسم کی یادوں سے جڑا ہوا تھا۔ ے مٹی کو جب کہ موسم بھی خوشگوار ہو چکا تھا پانی پت کی مختلف سڑکوں سے گزرتے ہوئے مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں ایک نئے پانی پت کو دریافت کر رہا ہوں ۔ حال میں جب میں امریکہ کے شہر فلوریڈا گیا تھا تو وہ مجھے بہت خوبصورت شہر معلوم ہوا تھا۔ جدید پانی پت بھی مجھ کو فلوریڈا کی قسم کا ایک شہر دکھائی دیا۔ میں نے کہا کہ پانی پت مستقبل کے ہندوستان کی ایک علامت ہے۔ غالباً اگلے ۲۵ سال میں ہندوستان کا نقشہ بالکل بدل چکا ہوگا۔

پانی پت کے ایک تعلیم یافتہ ہندو سے میں نے پوچھا کہ آج کا ہندو نو جوان کس طرح سوچتا ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ آج کے ہند و نو جوان میں بہت تیزی سے انٹرنیشنل تھنکنگ پیدا ہورہی ہے۔ اب وہ صرف بھارتی اصطلاح میں نہیں بلکہ گلوبل اصطلاح میں سوچتا ہے۔ میں نے سوچا کہ ۱۹۲۵ میں جن لیڈروں نے ملک کی ترقی کا سب سے بڑا فارمولا ”بھارتینا‘‘ کی صورت میں دریافت کیا تھا وہ تاریخ کے بارے میں کتنا کم جانتے تھے۔ ۱۹۲۵ سے اب تک کی مسلم قیادت تقریباً پوری کی پوری اسی بھارتینا کے خلاف ردعمل کا نام ہے۔ مسلمانوں میں کوئی ایسا قائد نہیں اٹھا جو یہ جانتا

‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues

Printed page