Al-Risala · November 2000 · page

God is the same yesterday, today and forever.

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰

ہو کہ تاریخ کا عمل خود ہی بھارتیہ اور ہندو تو جیسے کٹر نظریات کو بلڈوزر کر رہا ہے۔ پھر ہمیں اس کے خلاف بے فائدہ سرگرم ہونے کی کیا ضرورت ۔ ہمیں خود اپنی تعمیر کے مثبت کام میں لگنا چاہئے، نہ کہ تخریب غیر کے منفی کام میں۔

پانی پت سے کرنال تک کا راستہ ایک خوبصورت ماحول میں طے ہوا۔ خوشگوار موسم، کشادہ سڑک اور سڑک کے دونوں طرف دور دور تک کھلے میدان جن میں جگہ جگہ درخت ابھرے ہوئے، اس طرح کے ماحول میں سفر کرتے ہوئے ہم کرنال میں داخل ہوئے۔ کرنال میں بھی ہر طرف اسی طرح ترقی کے مناظر تھے جو پانی پت میں دکھائی دئے۔

کرنال کے اندر چلتے ہوئے ہم مانو سیوا سنگھ کے کیمپس میں داخل ہوئے۔ یہ ہماری پہلی منزل تھی۔ یہ گویا ایک باغ کے اندر ایک وسیع ادارہ تھا جس میں انسانی خدمت کی مختلف سرگرمیاں دکھائی دیں۔ یہاں ایک خاص بات یہ نظر آئی کہ لوگوں میں باہمی تعاون کا ماحول ہے۔ چنانچہ میں جس پروگرام کے لئے کرنال آیا، اس کا انتظام ایک اور ادارے نے کیا ہے مگر مانو سیوا سنگھ کی طرف سے اس کو بھر پور تعاون دیا گیا۔

سوامی پریم مورتی جی سے ملاقات ایک دلچسپ تجربہ تھی۔ وہ مانو سیوا سنگھ کے ذمہ دار اعلیٰ ہیں۔ میں نے پوچھا کہ اپنی سنستھا کے بارے میں کچھ بتائیے۔ انہوں نے نہایت سادہ انداز میں کہا کہ ہمارا یہ ماننا ہے کہ بندوں کی سیوا خدائی عبادت ہے۔

سوامی جی سے میں نے پوچھا کہ آنند والے جیون کا راز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس کا تار خدا سے جڑ جائے، آنند اسی کے لئے ہے۔ جب خدا کی رحمت ہوتی تھی کسی انسان کا تار خدا سے جڑ جاتا ہے۔ خدا کی رحمت سب کے لئے ہے۔ وہ برابر سب پر رحمت کر رہا ہے۔ مگر جو خود سے رحمت نہ چاہے اس کو رحمت ملے گی بھی نہیں۔

سوامی پریم مورتی نے اپنی تنظیم مانو سیوا سنگھ کے بارے میں ایک ہندی پمفلٹ دیا اس میں کچھ اقوال لکھے ہوئے تھے۔ ان میں سے دو قول یہ تھے:

‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues

Printed page