Al-Risala · November 2000 · page

God is the same yesterday, today and forever.

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰

ہر گھٹنا بھگوان کی لیلا ہے۔ “ ”کار یہ اسی کا سدھ ہوتا ہے جو دوسروں کے کام آتا ہے۔ “ میں نے سوامی جی سے پوچھا کہ کوئی سوتر کی بات بتائیے۔ انہوں نے ایک لمحہ سوچا، اس کے بعد کہا: ہر سمتیہ اللہ تعالیٰ کا شکر گزار رہے۔ کیوں کہ جو اللہ تعالیٰ کرتے ہیں وہ صحیح کرتے ہیں۔ مسٹر سٹیش گگلانی روٹری کلب کے ممبر ہیں۔ وہ ایک تاجر ہیں اور اسی کے ساتھ سماجی ویلفیئر کا کام بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلے ۸ سال سے وہ یہ کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے 9 ہزار لوگوں کی بیڑی چھڑائی، ۹۰۰ لوگوں کی شراب چھڑائی۔ ۴۰ آدمی کا گانجہ اور ہیروئن چھڑائی، وغیرہ۔

میں نے ان سے پوچھا کہ آپ اس میں کامیاب کیسے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ہر آدمی فطری طور پر جینا چاہتا ہے اور اچھی طرح جینا چاہتا ہے۔ وہ ایک بری عادت میں پھنس گیا ہم اس کو اس سے نکالتے ہیں۔ کونسلنگ (counselling) اور ترغیب (persuasion) کے ذریعہ اس کا ذہن بناتے ہیں۔ اس کو دوائیں دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس کے گھر کے لوگوں کو بتاتے ہیں کہ وہ کس طرح اس معاملہ میں ہماری مدد کریں۔ انہوں نے بتایا کہ جدید سائنس کی دریافت کردہ حقیقتوں کو ہم انہیں آسان انداز میں سمجھاتے ہیں کہ کس طرح نشہ انسان کے پورے سسٹم کو خراب کر دیتا ہے۔ اور اس کو جیتے جی بیکار بنا دیتا ہے۔ اس طرح جب اس کو ہماری بات سمجھ میں آ جاتی ہے تو وہ اس طرح اپنی عادت چھوڑنے پر راضی ہو جاتا ہے۔ ہم نے ۸ سال کی مدت میں ۴۰ ہزار آدمیوں پر کام کیا ہے۔ کچھ لوگوں نے جزئی طور پر نشہ چھوڑ دیا اور تقریباً ۲۰ پرسنٹ لوگوں نے کلی طور پر۔

مولانا محمد الیاس صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ پانی پت کے ایک مدرسہ میں مہتمم ہیں۔ اس مدرسہ کا نام الجامعۃ الاسلامیہ دارالعلوم ہے۔ اس ادارہ میں طلبہ کی تعداد ۱۱۵ ہے۔ اس مدرسہ کی چھ شاخیں مختلف دیہاتوں میں قائم ہیں۔ ۱۹۴۷ کے انقلاب کے بعد پانی پت کا علاقہ مسلمانوں سے بالکل خالی ہو گیا تھا۔ پانی پت میں صرف ایک مولانا لقاء اللہ صاحب باقی رہ گئے تھے۔ مگر مولانا محمد

‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues

Printed page