God is the same yesterday, today and forever.
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰
الیاس صاحب نے بتایا کہ اب پانی پت میں ۲ لاکھ سے زیادہ مسلمان آباد ہیں۔ یہی معاملہ پورے ہریانہ اور پنجاب کا ہوا۔
۱۹۷ میں کوئی سوچ نہیں سکتا تھا کہ یہ علاقہ دوبارہ مسلمانوں سے آباد ہوگا۔ مگر تاریخ ہمیشہ انسانوں کے مزعومات کو رد کر دیتی ہے۔ اسی کی ایک مثال یہ علاقہ بھی ہے۔
مولانا محمد الیاس صاحب سے میں نے پوچھا کہ آپ مدرسہ کے کام سے جڑے ہوئے ہیں اور اسی کے ساتھ آپ تبلیغ سے بھی جڑے ہوئے ہیں اپنے کچھ تجربات بتائیے۔ انہوں نے اپنے تجربات بتاتے ہوئے ایک دلچسپ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ آج کل سب سے بڑا جہاد مدرسہ چلانا ہے۔ اگر آپ تبلیغ میں جائیں تو ہر جگہ آپ کا اعتراف ہوگا۔ ہر جگہ آپ کی ضیافتیں ہوں گی۔ ہر جگہ آپ کا استقبال کیا جائے گا۔ ہر جگہ قیام اور دوسری ضرورتوں کا اچھا انتظام ملے گا۔ اس کے برعکس اگر آپ کہیں جائیں اور وہاں لوگوں کے سامنے مدرسہ کی بات کریں تو لوگ سلام کا جواب دینا بھی پسند نہیں کریں گے، منہ پھیر کر ادھر ادھر چلے جائیں گے۔ مدرسہ کے کام میں بے عزتی ملتی ہے جب کہ تبلیغ کے کام میں جایئے تو وہاں آپ کو عزت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس زمانہ میں جس کو جہاد کا ثواب لینا ہو وہ ایک مدرسہ چلائے۔
۷ مئی کو ساڑھے دس بجے وہ سمینار شروع ہوا جس کے لئے میں کرنال آیا تھا۔ یہ سمینار مانو سیواسنگھ کے ہال میں ہوا۔ یہ ادارہ ایک وسیع پارک جیسے ماحول میں قائم ہے۔ صبح کی بارش کی وجہ سے موسم خوشگوار ہو گیا تھا۔ ہال کی تمام کرسیاں بھری ہوئی تھیں ۔ یہ سب پڑھے لکھے لوگ تھے۔ حاضرین میں ۹۹ فیصد ہندو تھے۔ میرے سوا صرف دو مسلمان اور دو سدار نظر آئے۔ سب سے مختصر تقریر سر دار راؤ گرو بخش سنگھ کی تھی۔ یہاں مقررین کو دس منٹ کا وقت دیا گیا تھا۔ سردار گرو بخش سنگھ کو بھی دس منٹ دیا گیا مگر وہ صرف ایک منٹ کے لئے بولے۔ انہوں نے کہا کہ: منش کی ایک ہی ذات ، اس کو پہچانو۔ (انسان سب ایک ہیں ۔ اس حقیقت کو جانیئے)
مجھے اس سمینار میں چیف گیسٹ کے طور پر بلایا گیا تھا۔ اپنی آدھ گھنٹہ کی تقریر میں میں نے کہا
‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues