Al-Risala · November 2000 · page 25

God is the same yesterday, today and forever.

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰، صفحہ ۲۵

کہ موجودہ زمانہ میں جو مسائل نظر آتے ہیں ان کا پیدا کرنے والا انسان ہے۔ جنگ کون چھیڑتا ہے، انسان۔ صنعتی کثافت سے پانی اور فضا کو کون آلودہ کرتا ہے، انسان۔ کرپشن کے ذریعہ قومی معیشت کو کون تباہ کرتا ہے، انسان۔ سیاسی طاقت کو فسادی طاقت میں کون تبدیل کرتا ہے، انسان۔ اس لئے اصل مسئلہ نظام (سسٹم) کو بدلنے کا نہیں، بلکہ انسان کو بدلنے کا ہے۔ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ انسان کو صحیح معنوں میں انسان بنایا جائے۔

مذہب کا اصل مقصد یہی ہے۔ مذہب کا نشانہ انسان کو انسان بنانا ہے۔ انسان کی اصلاح ہو جائے تو بقیہ چیزوں کی اصلاح اپنے آپ ہو جائے۔ اس سلسلہ میں میں نے اسلامی تعلیمات سے کچھ مثالیں پیش کیں ۔ اور بتایا کہ اسلام کا اصل نشانہ فرد کی اصلاح ہے۔ کسی حکومت یا سسٹم کو نشانہ بنا کر اس کے خلاف گن کلچر چلانا اسلام نہیں۔

میں نے کہا کہ اسلام اور حب وطنی میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔ اسلام دین فطرت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فطرت کی ہر بات اپنے آپ اسلام میں شامل ہے، خواہ قرآن و حدیث میں صراحتہً اس کا ذکر ہو یا نہ ہو۔ مثلاً قرآن میں نہیں لکھا ہوا ہے کہ اے مسلمانو، تم اپنے وطن سے محبت کرو۔ مگر وطن کی محبت لکھے بغیر اسلام میں شامل ہے۔ قرآن میں کہیں یہ نہیں لکھا ہے کہ اے مسلمانو، تم اپنی ماؤں سے محبت کرو۔ مگر ماں سے محبت یقیناً اسلام کا ایک حصہ ہے۔ کیوں کہ وہ فطرت کا ایک حصہ ہے۔ اسی طرح وطن سے محبت بھی اسلام کا ایک حصہ ہے کیوں کہ وہ فطرت کا ایک حصہ ہے۔

مسٹر پر دیپ کمار ایڈوکیٹ (پانی پت) کرنال کے سیمینار میں موجود تھے۔ انہوں نے میری تقریر کے بارے میں اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا کہ آپ کی تقریر کو سن کر یہ لگا کہ ہم بھی دھارمگ ہو سکتے ہیں۔ اب تک ہم سمجھتے تھے کہ دھارمگ ہونے کا مطلب ہے جنونی ہونا۔ اس لئے ہم دھرم سے دور ہی رہتے تھے۔ مگر آپ کی باتوں کو سن کر اور آپ کو دیکھ کر اب ہم سمجھے کہ دھرم انسانیت سے پیار کا نام ہے۔ آپ جس دھرم کور پریزنٹ کرتے ہیں اس سے کسی کو بھی نہیں ہو سکتا۔

سیمینار سے پہلے ہندو جا کیلیس (ٹی وی) نے ایک انٹرویو ریکارڈ کیا ان کے سوالات کا تعلق

‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues

Printed page