God is the same yesterday, today and forever.
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰، صفحہ ۲۶
زیادہ تر موجودہ حالات سے تھا۔ میں نے کہا کہ میڈیا کے لوگ ہمیشہ منفی خبروں کو نمایاں کرتے ہیں اس لئے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہر طرف بگاڑ ہی بگاڑ ہے۔ حالاں کہ ان کے سوا بے شمار مثبت خبریں ہیں مگر میڈیا ان کو نمایاں نہیں کرتا۔
میں نے کہا کہ مثال کے طور پر یہ مانوسیواسنگھ جہاں اس وقت ہم بیٹھے ہوئے ہیں یہ لوگ رات دن سماجی خدمت اور تعمیری کام میں لگے ہوئے ہیں مگر میڈیا میں میں نے کبھی ان کے بارے میں نہ سنا اور نہ پڑھا۔ اس کا علم مجھے صرف اس وقت ہوا جب کہ میں کرنال آیا اور اس کو براہ راست اپنی آنکھ سے دیکھا۔
ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ میں کسی حکومت کو مسلمانوں کے لئے کوئی خطرہ نہیں سمجھتا۔ مسلم کمیونٹی ہو یا کوئی دوسری کمیونٹی، ہر ایک کے مستقبل کا انحصار خود اپنے عمل پر ہوتا ہے۔ خاص طور پر ڈیموکریسی کے زمانہ میں کوئی حکومت نہ کسی کو کوئی چیز دے سکتی ہے اور نہ کسی سے کوئی چیز چھین سکتی ہے۔ اس لئے ہمارے مشن کا سارا راز و اس پر ہے کہ ہم مسلمانوں کے اندر تعمیری سوچ پیدا کریں۔ سمینار کے بعد پریس کانفرنس ہوئی۔ اس میں اکثر اخباروں کے مقامی نمائندے موجود تھے۔ اکثر سوالات تیز وتند نوعیت کے تھے مگر میں نے ہر سوال کا ٹھنڈے طریقہ سے جواب دیا۔ دہلی کے اردو اخبار (قومی آواز ۸ مئی ۲۰۰۰) میں ان پاکستانی خواتین کے بارے میں ایک رپورٹ چھپی تھی۔ اس کے مطابق،''پاکستان کی ایک خاتون صحافی عارفہ نور نے پاکستان سوسائٹی کو طالبان زدہ بنانے کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماضی قریب میں ملاؤں نے فتویٰ دیا تھا کہ عورتوں کو گھر سے باہر نکلتے وقت سرڈھاکنا چاہئے لیکن پاکستان کی عام عورتوں نے ملاؤں کے اس فتویٰ کو ٹھکرادیا اور وہ منظم طاقت کے سامنے عورتوں کو سرڈھانکنے پر مجبور نہیں کرسکے۔ (صفحہ ۱)
پاکستان کے قیام کے بعد پاکستان میں اسلام کے نام پر جو سیاست چلائی گئی اس میں پر جوش اسلام پسند قائدین فخر کے ساتھ یہ کہتے تھے کہ ''پاکستان اسلام کے نام پر الاٹ ہو چکا ہے۔ ‘‘ لیکن
‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues