Al-Risala · November 2000 · page 27

God is the same yesterday, today and forever.

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰، صفحہ ۲۷

اسلام کے نام پر کیا جانے والا یہ ہنگامہ جب اپنے آخری انجام پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ پاکستان حقیقتًا خوش فہمی کے نام پر الٹ ہوا تھا۔ اگر چہ نام نہاد اسلام پسند بطور خود یہ سمجھتے رہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر الٹ ہوا ہے۔

موجودہ زمانہ میں جو مسلم تحریکیں اٹھیں ان سب میں یہ مشترک کمی تھی کہ ان کے رہنما یہ سمجھنے میں ناکام رہے کہ روح عصر کیا ہے اور تاریخ کی طاقتیں کدھر جا رہی ہیں۔ اسی بے خبری کا یہ نتیجہ ہے کہ سوسائٹی کی ہنگامہ خیز تحریکیں اور بے شمار جانی اور مالی قربانیوں کے باوجود ملت کے حصہ میں مزید تباہی کے سوا اور کچھ نہ آیا۔

مانو سیوا سنگھ (کرنال) کے بانی اور ذمہ دار سوامی پریم مورتی بظاہر اپنے حلیہ کے اعتبار سے ایک غیر اہم انسان دکھائی دیتے ہیں مگر ان میں بیک وقت دو اعلیٰ صفتیں پائی جاتی ہیں۔ وہ اپنے سینہ میں انسانیت کا درد رکھتے ہیں اور اسی کے ساتھ ان کو زندگی کا کافی تجربہ بھی ہے۔ انہوں نے بہت سی قیمتی باتیں بتائیں۔ مثلاً انہوں نے کہا کہ ۱۰ سے ۱۲ سال کی عمر بچوں کے بننے کی عمر ہوتی ہے۔ اس عمر تک اگر ان سے کام نہ کرایا جائے تو پھر وہ ساری عمر کام نہ کر سکیں گے۔

یہ بلاشبہ ایک درست بات ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عام طور پر لوگ اپنی عادتوں کے پابند ہوتے ہیں۔ جس کے اندر جو سوچ بن گئی وہ دوبارہ اس کے علاوہ کچھ اور سوچ نہیں پاتا، وہ اسی پر ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ اسی طرح جو شخص جس چیز کا عادی ہو گیا وہ دوبارہ اپنی عادتوں کو بدل نہیں پاتا۔ استثنائی طور پر کوئی شخص ایسا ہوتا ہے جو اپنی سوچ یا اپنی عادت کو از سر نو تشکیل دے۔ کرنال سے ہم لوگ ۷ مئی ۲۰۰۰ء کی شام کو واپس دہلی کے لئے روانہ ہوئے۔ راستہ میں ہمارا قافلہ کچھ دیر کے لئے پانی پت میں رکا۔ یہاں جو کچھ دیکھا اور جن سے ملاقاتیں ہوئیں ان میں سے ایک مسٹر پی سی حجاج (67838,68982 .Tel) تھے۔ وہ ۱۹۴۷ میں پاکستان سے انڈیا آئے اور پانی پت میں اپنا کاروبار قائم کیا۔ وہ پانی پت میں ہینڈلوم کا ایک بڑا کارخانہ چلاتے ہیں۔ ان کا شوروم اور ان کا آفس اتنا بڑا ہے کہ وہ خود ایک دنیا معلوم ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues

Printed page