Al-Risala · November 2000 · page 28

God is the same yesterday, today and forever.

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰، صفحہ ۲۸

مسٹر بجاج کو ان کے شاندار آفس میں دیکھ کر ایک عام آدمی سمجھے گا کہ وہ بہت خوش قسمت ہیں۔ مگر ان کی اس خوش قسمتی کا راز یہ نہیں ہے کہ وہ چاندی کا چمچہ اپنے منہ میں لے کر پیدا ہوئے یا ان کے نام کوئی بڑی لاٹری کھل گئی۔ ان کی اس غیر معمولی کامیابی کا راز پچاس سال کی مسلسل محنت ہے۔ اس وقت ان کی عمر ۶۷ سال ہے مگر آج بھی وہ رات اور دن کے درمیان تقریباً ۱۸ گھنٹہ اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں۔ آپ ان سے کسی بھی وقت ملیں، وہ آپ کو ہر وقت خوش اور تروتازہ دکھائی دیں گے، وہ اپنی تجارتی سرگرمیوں کے ساتھ سوشل کاموں کے لئے بھی پابندی کے ساتھ وقت نکالتے ہیں۔ ان کی زندگی اس حقیقت کا پیغام ہے کہ محنت کرو اور با اصول زندگی گزارو، تم یقیناً کامیاب رہو گے۔

پانی پت اگر چہ کرنال کا ایک قصبہ ہے مگر وہ خود ایک شہر کے مانند ہے۔ مزید یہ کہ اس کی تاریخی حیثیت بہت زیادہ ہے۔ ۱۸۶۷ میں پانی پت میں میونسپلٹی کا قیام عمل میں آیا۔ پانی پت میں کئی اچھے تعلیمی ادارے ہیں۔ یہاں اون اور سوت کے بہت سے کارخانے ہیں جو پاور لوم سے چلتے ہیں، وغیرہ۔

پانی پت میں تین بڑی لڑائیاں ہوئیں۔ یہاں تک کہ تاریخ کی کتابوں میں پانی پت کی جنگیں (Battle of Panipat) ایک مستقل عنوان بن گیا ۔ یہاں ہونے والی ۳ بڑی جنگوں کی تفصیل یہ ہے۔

پہلی جنگ وہ ہے جو ۲۱ اپریل ۱۵۲۶ کو لڑی گئی۔ یہ جنگ مغل سردار بابر، کابل کا حکمراں، اور دہلی کے سلطان ابراہیم لودی کے درمیان ہوئی۔ اگر چہ ابراہیم لودی کی فوج کی تعداد بہت زیادہ تھی مگر بابر کی انتہائی منظم فوج کے مقابلہ میں اس کو شکست ہوئی۔ ابراہیم لودی خود بھی اس جنگ میں مارا گیا۔ یہی جنگ برصغیر ہند میں مغل سلطنت کا آغاز بنی۔

دوسری جنگ ۵ نومبر ۱۵۵۶ کو ہوئی ۔ یہ جنگ شہنشاہ اکبر کے اتالیق سردار بیرم خاں اور عادل شاہ سوری کے سپہ سالار ہیمو بقال کے درمیان لڑی گئی۔ ہیمو بقال کے پاس ایک لاکھ سپاہی تھے

‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues

Printed page