Al-Risala · November 2000 · page 29

God is the same yesterday, today and forever.

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰، صفحہ ۲۹

اور مغل فوج کی تعداد ۲۰ ہزار سے زیادہ نہ تھی۔ لیکن بالآخر ہیم و گرفتار ہوا اور اس کی فوج تتتر بتر ہوگئی۔ پانی پت کی تیسری جنگ جنوری ۱۷۶۱ء میں لڑی گئی۔ یہ جنگ مراٹھا کمانڈر سداشیو بھاؤ اور احمد شاہ ابدالی کے درمیان ہوئی. مراٹھ مہ فوج کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ تھی اور شاہ ابدالی کے پاس تقریباً چالیس ہزار سوار اور تقریباً ۴۰ ہزار پیادہ سپاہی تھے۔ آخر کار مراٹھوں کو مکمل شکست ہوئی۔ مراٹھوں کی شکست کا ایک خاص سبب یہ تھا کہ اس کے سردار سداشیو بھاؤ نے غیر منصوبہ بند انداز میں فوج کی تعداد بہت بڑھالی جب کہ اتنی بڑی تعداد کے لئے کھانے پینے کا معقول انتظام موجود نہ تھا۔

اس معاملہ کا ایک سبق آموز پہلو یہ ہے کہ احمد شاہ ابدالی کی بظاہر کامیابی کا فائدہ تمام تر انگریزوں کو ملا۔ خود احمد شاہ ابدالی کو اپنے فوجیوں کے اصرار کی بنا پر ہندوستان سے واپس جانا پڑا۔ دوسری طرف مراٹھوں کا زور ٹوٹ جانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ انگریزوں کو کسی بڑی مزاحمت کے بغیر انڈیا میں اپنا قدم جمانے کا موقع مل گیا۔ اس کے بعد لمبی مدت تک اس علاقہ سے سیاسی استحکام ختم ہوگیا۔ اس سیاسی انارکی نے انگریزوں کے لئے کامیابی کا راستہ ہموار کر دیا:

This began 40 years of anarchy in north-west India and cleared the way for later British supremacy. شری پیارے لال (کرنال) کا ایک پیپر یہاں کے سیمین میں پڑھا گیا۔ اس تقریر میں انہوں نے وحدت ادیان کے نظریہ کو پیش کیا تھا۔ میں نے تجربہ کیا ہے کہ جو لوگ وحدت ادیان کی بات کرتے ہیں وہ ہمیشہ بیانیہ انداز میں بولتے ہیں۔ کسی دلیل کے بغیر بیانیہ انداز میں اپنی بات کہتے چلے جاتے ہیں۔ ان کی تقریر و تحریر میں نہ کوئی دلیل ہوتی ہے اور نہ کوئی علمی تجزیہ۔ مذکورہ پیپر کا بھی یہی حال تھا۔ کچھ اشعار اور کچھ تمثیلیں، بس اسی پر سارا مضمون تیار کیا گیا تھا۔

پیپر میں قرآن کی ایک آیت کا بھی حوالہ دیا گیا تھا۔ وہ آیت یہ ہے: و كان الله بكل شيئ محيطا (النساء (۱۰۸) اس آیت سے انہوں نے ہمہ اوست (monism) کا نظریہ نکالا تھا، حالانکہ اس آیت کا سادہ مطلب یہ ہے کہ اللہ ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے، اس آیت میں اللہ کی

‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues

Printed page