Al-Risala · November 2000 · page 30

God is the same yesterday, today and forever.

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰، صفحہ ۳۰

قدرت کا ہر چیز میں چھایا ہوا ہونا بتایا گیا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر چیز اللہ کی ذات یا اس کے وجود کا حصہ ہے۔

یہ کوئی دلیل نہیں بلکہ محض لفظی تک بندی ہے۔ بدقسمتی سے اس قسم کی لفظی تک بندی ہر مذہبی گروہ اور ہر مذہبی فرقہ میں رائج ہے۔ خود مسلمانوں میں بھی اکثر فرقے اور گروہ اسی قسم کی کمزور دلیلوں پر کھڑے ہوئے ہیں۔ وہ لفظی تک بندی کو عملی دلیل کا درجہ دئے ہوئے ہیں۔

موجودہ زمانہ سائنسی استدلال کا زمانہ ہے۔ آج مبنی بر عقل دلیل (reason-based argument) کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ مگر میرے علم کے مطابق، کسی بھی مذہبی گروہ میں اس قسم کا استدلالی طریقہ موجود نہیں۔ اسلام مکمل طور پر ایک علمی و عقلی مذہب ہے مگر موجودہ زمانہ میں مجھے کوئی بھی مسلم مقرر یا محرر دکھائی نہیں دیتا جس نے حقیقی معنوں میں سائنسی استدلال کے اصول پر اپنے فکر کو پیش کیا ہو ۔

ایک تجربہ گزرا۔ اس کے بعد میری زبان سے نکلا۔ جنت کی قیمت عمل نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عمل کی کوئی بھی مقدار جنت کی قیمت نہیں بن سکتی۔ جنت کا استحقاق صرف ایک چیز ہے، اور وہ سوال (دعا) ہے۔ جنت صرف ان انسانوں کے لئے ہے جو حقیقی طور پر یہ کہہ سکیں: اللهم انا نسألك الجنة و نعوذ بك من النار ۔ عمل بھی اسی لئے ہے کہ آدمی کو حقیقی معنوں میں سائل بنا سکے۔ عُجل آدمی کے اندر اس پیغمبرانہ سوال کی اسپرٹ جگائے وہی عمل ہے اور جو عمل یہ اسپرٹ نہ جگائے وہ عمل بھی حقیقی عمل نہیں۔

سوال کیا ہے۔ سوال دراصل رب العالمين کی کامل قدرت کے مقابلہ میں اپنے کامل عجز کا اعتراف کرنا ہے۔ سچا سوال ہمیشہ احساس عجز سے ابھرتا ہے نہ کہ احساس عمل سے۔ ایک مجلس میں مجھ سے کہا گیا کہ قرآن کی کوئی آیت ہم کو بتائیے جس میں ہمارے لئے کوئی نصیحت ہو۔ میں نے یہ آیت پڑھی: لا تؤتوا السفهاء أموالكم (النساء ۵) یعنی تم نادانوں کو اپنے مال نہ دو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مال کو ٹھیک طور پر سنبھالنے کے لئے عقل اور شعور کی ضرورت

‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues

Printed page