Al-Risala · November 2000 · page 31

God is the same yesterday, today and forever.

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰، صفحہ ۳۱

ہے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ لوگوں کو مالدار بنانے سے پہلے انہیں باشعور بناؤ۔

میں نے کہا کہ اس کی ایک قریبی مثال پنجاب ہے۔ ۱۹۷ کے بعد پنجاب میں لوگوں کے پاس کثرت سے مال آگیا۔ مگر تعلیم میں کمی کی بنا پر وہ زیادہ باشعور نہ تھے چنانچہ کچھ نادان لیڈروں کے بہکاوے کے نتیجہ میں وہاں متشددانہ انداز میں علیحدگی کی تحریک چل پڑی۔ اس کے انتہائی غیر حقیقت پسندانہ سیاست کا نتیجہ صرف جان و مال کی تباہی کی صورت میں برآمد ہوا۔

میں نے کہا کہ پنجاب میں جو لوگ اعلیٰ تعلیم پائے ہوئے تھے۔ وہ اس تحریک کی غلطی کو اچھی طرح سمجھتے تھے، مثال کے طور پر ڈاکٹر مہندر سنگھ۔ اگر پنجاب میں ڈاکٹر مہندر سنگھ جیسے تعلیم یافتہ لوگ ہوتے تو کبھی اس قسم کی جذباتی تحریک وہاں نہ پھیلتی۔ مگر پنجاب میں جس نسبت سے مال آیا اسی نسبت سے وہاں تعلیم نہ آسکی۔ اس غیر مناسب ترقی نے وہاں علیحدگی پسندی کو فروغ دیا۔ اس تباہ کن تحریک کو کچلنے میں صرف نئی دہلی کا جو خرچ ہوا اس کی مقدار ایک سو کروڑ روپیہ تھی۔ دوسرے نقصانات اس کے علاوہ ہیں۔ پانی پت میں ایک تعلیم یافتہ ہندو نو جوان مسٹر چودھری سے ملاقات ہوئی۔ واپسی میں وہ گاڑی میں ہمارے ساتھ دہلی تک آئے۔ ان کا خاندان ۱۹۷ میں پاکستان سے یہاں آگیا تھا۔ پاکستان میں یہ لوگ جس بستی میں رہتے تھے وہاں کے مسلمانوں سے اب بھی ان کے اچھے تعلقات ہیں اور وہ جب بھی ہندوستان آتے ہیں تو ان سے ضرور ملتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حال میں ان کا ایک مسلمان دوست پاکستان سے آیا اور پانی پت میں کچھ وقت ان کے ساتھ رہا۔ اس مسلمان نے ایک روز بے تکلفی کے انداز میں کہا کہ ”یار، ہمارے اور تمہارے درمیان کیا فرق ہے۔ سارا جھگڑا صرف نام ہی کا تو ہے اپنا نام بدل لو اور پاکستان آجاؤ۔ “ میں نے سوچا کہ دو قومی تحریک کا یہ یک قومی انجام کیسا عجیب ہے۔ ۲۷ مئی ۲۰۰۰ کی رات کو ہم لوگ دہلی واپس پہنچے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues

Printed page