Japan is the jewel of Asia.
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰، صفحہ ۳۷
فخریہ الفاظ کے بجائے منکسرانہ الفاظ نکلے۔
زاویہ نظر (attitude of mind) کی بنیادی طور پر دو قسمیں ہیں۔ ایک ہے سائنٹفک طرزِ خیال (scientific attitude)، اور دوسرا ہے متعصبانہ طرزِ خیال (biased attitude)۔ سائنٹفک طرزِ خیال یہ ہے کہ آدمی کے ذہن پر کسی غیر متعلق چیز کا غلبہ نہ ہو، وہ خالص حقائق کی روشنی میں اپنی رائے قائم کرے۔ وہ اپنی ذات کو الگ کر کے بے لاگ طور پر حقیقتوں کو دیکھ سکے۔ اس کے برعکس متعصبانہ طرزِ فکر یہ ہے کہ آدمی کا ذہن ایک متاثر ذہن ہو۔ وہ اس ذہنی کمزوری میں مبتلا ہو جائے جس کو پیشگی طور پر اچھا یا برا خیال رکھنا (preoccupation) کہا جاتا ہے۔ اس فرق کو دوسرے لفظوں میں حقیقت پسندانہ طرزِ فکر (realistic approach) اور غیر حقیقت پسندانہ طرزِ فکر (un-realistic approach) کہہ سکتے ہیں۔
عربی کا ایک مقولہ ہے کہ کسی چیز کی محبت تم کو اندھا اور بہرا بنا دیتی ہے (حبک الشئ یعمی و يصم)۔ یہی بات برعکس طور پر بھی درست ہے۔ یعنی کسی چیز سے بغض آدمی کو اندھا اور بہرا بنا دیتا ہے (بغضک الشئ يعمی و يصم)۔
میں سمجھتا ہوں کہ دین کا معاملہ ہو یا دنیا کا معاملہ، دونوں ہی معاملہ میں آدمی کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار اس پر ہے کہ اس کے اندر صحیح طرزِ فکر پایا جائے۔ غلط طرزِ فکر اگر جزئی طور پر ہو تب بھی وہ آدمی کے لئے ہلاکت کا سبب بن جائے گا۔
طرزِ فکر کا نادرست ہونا کوئی سادہ بات نہیں، وہ نہایت سنگین بات ہے۔ جو لوگ اس کمزوری میں مبتلا ہوں، ان کا نقطہ نظر اور طریق عمل دونوں غلط ہو کر رہ جائیں گے، ایسے لوگ، حدیث کے الفاظ میں، پہلے قول زور کا شکار ہوں گے اور اس کے بعد عمل زور کا شکار۔ مزید یہ کہ حقائق کی اس دنیا میں چونکہ غیر حقیقی نقطہ نظر قابل عمل نہیں، اس لئے حالات کے دباؤ کے تحت آخر کار وہ دہرا معیار (ڈبل اسٹینڈرڈ) کا شکار ہو جائیں گے جس کا دوسرا نام منافقت ہے۔ یہاں میں اس معاملہ کی کچھ مثالیں نقل کروں گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues