Japan is the jewel of Asia.
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰، صفحہ ۳۸
۱۔ دہلی میں ایک بدنام ہندی اخبار ہے۔ وہ ہر ایک کے بارے میں الٹی باتیں چھاپتا رہتا ہے۔ اس نے ہندوستان کی ایک اسلامی جماعت کے بارے میں چھاپا کہ وہ پاکستان کی ایجنٹ ہے۔ جماعت کے لوگوں نے جب اس کو پڑھا تو ایسا نہیں ہوا کہ وہ اس کو صحیح مان کر اس کی عمومی تشہیر کرنے لگیں۔ بلکہ اس کو دیکھتے ہی انہوں نے کہہ دیا کہ یہ بالکل غلط ہے۔ اس کے برعکس اسی اخبار میں میرے بارے میں ایک بے ہودہ رپورٹ چھپی تو اس جماعت کے لوگوں نے فوراً اس کو صحیح مان کر اس کو ہر طرف پھیلانا شروع کر دیا۔
اس دہرا روش کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب یہی تھا کہ یہ لوگ متعصبانہ طرز فکر میں جی رہے تھے۔ اپنے بارے میں متعصبانہ محبت اور دوسرے کے بارے میں متعصبانہ بغض۔ اس کا نقصان انہیں یہ اٹھانا پڑا کہ وہ دہرا طرز فکر کی برائی میں مبتلا ہو گئے۔ اپنے معاملہ میں ان کے سوچنے کا طریقہ کچھ تھا اور دوسرے کے معاملہ میں ان کے سوچنے کا طریقہ کچھ اور۔
۲۔ اس معاملہ کی دوسری مثال یہ ہے کہ پچھلے تقریباً دو سو سال کے درمیان ہر ملک کے مسلم رہنماؤں کی سوچ کم و بیش ایک ہی چیز کا غلبہ رہا ہے، اور وہ مغربی استعمار (colonialism) کا مسئلہ ہے۔ اس مسئلہ کو اتنا زیادہ بڑھایا گیا کہ موجودہ زمانہ میں پیدا ہونے والا تمام مسلم لٹریچر مغرب کی نفرت سے بھر گیا۔ مغربی قو میں اسلام دشمن ہیں، مغربی قو میں اسلام کے خلاف سازش کر رہی ہیں۔ یہ تصور دور جدید کی پوری مسلم نسل پر چھا گیا۔
یہ ایک غیر حقیقت پسندانہ نقطہ نظر تھا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان جن مسائل کا شکار ہوئے ان کا سبب تمام تر خود مسلمانوں کا داخلی زوال تھا۔ مگر مذکورہ منفی ذہن کی بنا پر دنیا بھر کے مسلم مقررین اور محررین نے یہ کیا کہ مسلمانوں کے تمام مسائل و مصائب کو مغربی استعمار کے خانہ میں ڈال دیا۔ یہ منفی ذہن اتنا زیادہ بڑھا کہ انہوں نے یہ اعلان کر دیا کہ مغربی قوموں سے مسلمانوں کا رشتہ عداوت اور مقاطعہ کا ہونا چاہئے نہ کہ محبت اور تعلق کا۔
۳۔ ایک اور پہلو سے دیکھے تو یہ سارا معاملہ زاویہ نظر (angle of vision) کا نظر آتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues