Al-Risala · November 2000 · page 39

Japan is the jewel of Asia.

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰، صفحہ ۳۹

کسی چیز کو دیکھنے کے کئی رخ ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ ایک چیز کو اس کے صحیح رخ سے دیکھیں تو اس کے بارے میں آپ کی جو رائے بنے گی وہ درست رائے ہوگی۔ اس کے برعکس اگر اس چیز کو غلط رخ سے دیکھا جائے تو آپ کی رائے اس کے بارے میں بالکل غلط ہو جائے گی۔

اس کی ایک دلچسپ مثال یہ ہے کہ ۱۹۷ سے پہلے پنڈت جواہر لال نہرو کی ایک کتاب چھپی تھی جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ برٹش ایمپائر نے ہندوستان میں جو ریلوے لائن بچھائی ہے وہ ریلوے لائن نہیں ہے بلکہ وہ لوہے کی زنجیریں ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ ان میں ہندوستان کو ہمیشہ کے لئے جکڑ دیا جائے۔ زاویۂ نظر کے فرق کی بنا پر رائے کے مختلف ہونے کی یہ بڑی عجیب مثال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں جو ریلوے لائن بچھائی گئی وہ ملک کے لئے ایک عظیم نعمت تھی۔ اس نے ہمارے ملک میں پہلی بار سواری اور بار برداری کو انتہائی آسان بنا دیا۔ حتیٰ کہ یہی ریلوے لائنیں تھیں جس کے اوپر نہر و اور دوسرے لیڈروں نے سوار ہو کر آزادی کی تحریک سارے ملک میں پھیلا دی۔ اب اگر جواہر لال نہرو اس زاویۂ نظر سے ریلوے لائن کو دیکھتے تو وہ اس کو ملک کے حق میں ایک نعمت بتاتے مگر انہوں نے ریلوے لائن کو بالکل مختلف زاویۂ نظر سے دیکھا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ قیمتی ریلوے لائن ان کو غلامی کی آہنی زنجیر دکھائی دینے لگی۔

اس غیر حقیقت پسندانہ طرز فکر کا آخری نتیجہ یہ ہوا کہ پوری مسلم نسل دہرا معیار (ڈبل اسٹینڈرڈ) کا شکار ہو کر رہ گئی۔ چنانچہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ ساری دنیا کے مسلمان ایک طرف اپنے سابقہ فکری تسلط (obsession) کی بنا پر اپنی تقریر اور تحریر میں برطانیہ اور امریکہ کو ہمیشہ برا کہتے ہیں۔ حتیٰ کہ اگر کوئی ایسا نہ کہے تو فوراً اس کو اسلام دشمنوں کا ایجنٹ قرار دے دیتے ہیں۔ مگر انہی مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ پہلا موقع ملتے ہی وہ اپنی اولاد کو اور اپنے رشتہ دار کو برطانیہ اور امریکہ بھیج دیتے ہیں تا کہ وہ ان ”اسلام دشمن“ طاقتوں کی مشین کے پرزے بن سکیں، صرف اس قیمت پر کہ وہاں ان کو مادی اعتبار سے زیادہ بہتر زندگی حاصل ہو جائے گی۔

دہلی، ۲۶ اگست ۲۰۰۰ دعا گو وحید الدین

‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues

Printed page