Al-Risala · November 2000 · page 41

Japan is the jewel of Asia.

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰، صفحہ ۴۱

مقررین اور محررین نے اس نفسیات کو اتنا زیادہ گہرا بنا دیا تھا کے صرف سمجھانے بجھانے سے یہ ختم ہونے والی نہیں تھی۔ موجودہ حالات گویا مسلمانوں کے معلم بن کر ظاہر ہوئے ہیں۔ چنانچہ اب مسلمان تیزی سے حقیقت پسند بنتے جارہے ہیں۔ یہ انٹرویو ۲۶ اگست ۲۰۰۰ کو بی بی سی لندن کے شام کے پروگرام میں نشر کیا گیا۔

بی بی سی لندن کے ایک پروگرام کے تحت صدر اسلامی مرکز نے ان کے ایک پینل ڈسکسشن میں حصہ لیا۔ اس میں تین آدمی شریک تھے_______ وشنوہری ڈالمیا، پروفیسر تھمپو، صدر اسلامی مرکز۔ اس کا نظم براہ راست لندن سے کیا گیا تھا۔ یہ پروگرام ۱۸ اگست ۲۰۰۰ کی شام کو ہوا۔ پروگرام کے کنڈکٹر مسٹر ٹریوک بارنیز (Trevok Barnes) لندن سے ہر ایک کا نام لے کر سوال کرتے تھے۔ اور نئی دہلی میں بیٹھے ہوئے تینوں آدمی باری باری اس کا جواب دیتے تھے۔ یہ پروگرام انگریزی میں تھا اور اس کا عنوان یہ تھا:

Increasing intolerance in present Indian society. ایک سوال کے جواب میں صدر اسلامی مرکز نے کہا کہ موجودہ انٹالرنس کا سبب مذہبی قدروں کا انحطاط ہے۔ اس لئے مذہبی قدروں کا احیاء کر کے اس مسئلے کا حل کیا جاسکتا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ہونے والے تشدد کے واقعات کا کشمیر کی متشددانہ تحریک سے کوئی تعلق نہیں۔ دونوں کی نوعیت ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔ کولمبیا یونیورسٹی (امریکہ) میں تاریخ کے پروفیسر این سلی ایمبری (Ainslie T. Embree) نے ۲۸ اگست ۲۰۰۰ کو دہلی میں صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ وہ مذہب اور امن کے موضوع پر ایک کتاب لکھ رہے ہیں۔ ان کے سوالات کا تعلق اس سے تھا کہ اسلام میں جنگ اور امن کے بارے میں کیا تعلقات ہیں۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام مکمل طور پر امن اور انسانیت کا مذہب ہے۔ وہ پرامن طریقہ کار کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلام میں صرف دفاعی جنگ ہے۔ گور یلا وار اور پراکسی وار اسلام میں جائز نہیں۔ ملک اور قوم اور مال کی جنگ کو خواہ اسلام کے نام پر لڑا

‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues

Printed page