Al-Risala · November 2000 · page 42

Japan is the jewel of Asia.

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰، صفحہ ۴۲

جائے پھر بھی وہ اسلامی جنگ نہیں ہوگی ۔ یہ انٹرویو تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ تک جاری رہا۔ ہفت روزہ نئی دنیا (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر جمشید عادل نے ۲۸ اگست ۲۰۰۰ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق بھارتیہ جنتا پارٹی کے ناگپور اعلان (۲۸ اگست ۲۰۰۰) سے تھا جس میں انہوں نے مسلمانوں کے لئے نہایت نرم انداز اختیار کیا ہے۔ جواب میں کہا گیا کہ یہ تو عین ہمارے اندازے کے مطابق ہے۔ ہم پچھلے ۲۵ سال سے یہ کہتے آئے ہیں کہ آر ایس ایس یا بھارتیہ جنتا پارٹی مسلمانوں کے لئے حقیقی خطرہ نہیں۔ کیوں کہ اس دنیا کے معاملات کا فیصلہ فطرت کے قوانین اور تاریخی عوامل کرتے ہیں نہ کہ کوئی فرد یا جماعت۔

زی ٹی وی کی ٹیم نے ۲۸ اگست ۲۰۰۰ کو صدر اسلامی کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق بھارتیہ جنتا پارٹی کے ناگپور اجلاس (۲۷۔ ۲۸ اگست) سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس سے مسلمانوں کی دوری کی وجہ کچھ تاریخی شبہات ہیں۔ جب تک ان شبہات کو دور نہ کیا جائے مسلمان کبھی بھی بڑی تعداد میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو ووٹ نہیں دیں گے۔ اس سلسلہ میں بتایا گیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو اگر مسلمانوں کا ووٹ لینا ہے تو ان کو کھلے طور پر یہ اعلان کرنا ہوگا کہ وہ جس راستہ پر چل رہے تھے وہ درست نہ تھا۔ یہ کہنا کہ کانگریس نے بھاجپا کے اندر غلط فہمی پھیلائی مسلمانوں کو مطمئن کرنے کے لئے کافی نہیں۔ اس کے بجائے انہیں خود اپنی غلطی کا اعتراف کرنا چاہئے۔

گاندھی سمینتی اینڈ درشن سمینتی کی سالانہ میٹنگ ۲۹ اگست ۲۰۰۰ کو ساؤتھ بلاک (نئی دہلی) میں وزیر اعظم ہند کی صدارت میں ہوئی ۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ اخلاقی زوال کا مسئلہ ہے۔ ضرورت ہے کہ اخلاقی اور انسانی قدروں کو زندہ کرنے کے لئے ملک گیر پیمانہ پر ایک مہم چلائی جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues

Printed page