Al-Risala · November 2000 · page 44

Japan is the jewel of Asia.

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰، صفحہ ۴۴

ہے مجھے کسی پارٹی سے کوئی نفرت نہیں۔ میں ہر پارٹی کو انسانیت کی نظر سے دیکھتا ہوں۔ مگر اس ریزولیوشن کے ذریعہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس شامل ہوں اور اس کو ووٹ دیں۔ مگر مسلم عوام کی نظر میں بھاجپا کی تصویر پر ہندو اور اینٹی مسلم تصویر ہے۔ بھاجپا کو اپنی یہ تصویر درست کرنا ہوگا۔ اس کے بعد ہی مسلمان اس کو ووٹ دے سکتے ہیں۔ سہارا ٹی وی (نئی دہلی) کے اسٹوڈیو میں ۴ ستمبر ۲۰۰۰ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا گیا۔ انٹرویو ر مستر ونود دوا تھے۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر بھارتیہ جنتا پارٹی کے ناگپور اعلان اگست ۲۰۰۰ سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہمارا میسیج یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو جانے کہ پولیٹکس گیواینڈ ٹیک (give and take) کا نام ہے۔ اگر وہ مسلمانوں کا ووٹ چاہتے ہیں تو انہیں بھی مسلمانوں کو کوئی قابل لحاظ چیز دینا ہوگا۔ مثلاً وہ یہ اعلان کریں کہ عبادت گاہ ایکٹ (Places of Worship Act) کے مطابق ہر مسجد کو ۱۹۴۷ کی حیثیت پر باقی رکھا جائے گا اور جہاں تک بابری مسجد کا سوال ہے اس کے معاملہ میں عدالت کے فیصلہ کو من وعن تسلیم کیا جائے گا۔ اور جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے ہم یہ کہیں گے کہ پالیٹکس میں کوئی لگی بندھی پالیسی نہیں ہوتی بلکہ جو چیز لگی بندھی ہوتی ہے وہ انٹرسٹ ہے:

There are no fixed policies, there are only fixed interests. ماہنامہ الرسالہ کے مطالعہ سے لوگ کس قسم کا اثر قبول کر رہے ہیں اس کا اندازہ کرنے کے لئے یہاں دو خط نقل کئے جاتے ہیں :

میں ایک دینی درسگاہ کا خادم ہوں۔ حالیہ دنوں تک آپ کا سخت ناقد و مخالف رہا حالانکہ میں نے براہ راست آپ کی تصنیفات کا مطالعہ نہیں کیا تھا۔ میری مادری زبان بنگالی ہے۔ اردو تھوڑا بہت سیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ عالم نما کا بریں سے بار ہا سن سن کر میں نے بھی آپ کو ایک گمراہ و ضدی عالم سوء سمجھ لیا تھا۔ پھر ایک دن خیال آیا کہ کیوں نہ آپ کو پڑھ لیا جائے؟

‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues

Printed page