حکمتِ اعراض
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۱۷
حکمتِ اعراض
ایک صاحب اپنے خط مورخہ ۲۸ ستمبر ۱۹۹۹ میں لکھتے ہیں: میں نے ہندی اخبار’’ہندوستان‘‘ کا شمارہ ۲۸ ستمبر ۱۹۹۹پڑھا۔ اس کے اداریہ میں یہ لکھا تھا کہ حال میں سورت (گجرات) میں’’گنیش وسرجن‘‘ کا جلوس نکلا۔ اس موقع پر پولیس اور جلوس کے درمیان ٹکراؤ ہوگیا۔ پتھراؤ پتھراؤ اور فائرنگ کے نتیجہ میں جلوس کے آٹھ افراد ہلاک اور کئی درجَن زخمی ہو گئے۔ یہ جلوس شہر کے مسلم محلہ کی ایک مسجد کے پاس سے گزر رہا تھا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ مسلم اور ہندو یا مسلم اور پولیس کے درمیان لڑائی ہو جاتی مگر عملاً اس کا الٹا ہوا۔ مسلمانوں نے وہاں پر صبر کا رویہ اپنایا جس کی وجہ سے انھیں اس کا پھل مل گیا۔ اس میں کسی بھی مسلمان کا نقصان نہیں ہوا۔ کیوں کہ ٹکڑاؤ انتظامیہ اور ہندوؤں کے درمیان ہوا تھا۔ یہ پڑھ کر آپ کی وہ بات یاد آ گئی جو آپ’’الرسالہ‘‘ یا کئی دیگر کتابوں میں لکھ چکے ہیں۔ (سہیل احمد، حسن البنا منزل، جامعۃ الفلاح، بلریا گنج، اعظم گڑھ)
’’سورت‘‘ کا یہ واقعہ تمام اخباروں میں آ چکا ہے۔ اس واقعہ میں بہت بڑا سبق ہے۔ اس سبق کی طرف الرسالہ میں بار بار نشاندہی کی جاتی رہی ہے ۔ وہ یہ کہ ــــــ مسلم کش فسادات کا اصل سبب جلوس کا نکلنا اور اس کا مسلم محلہ سے گزرنا نہیں ہے بلکہ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ جب جلوس نکلے تو محلہ والے اس کے مقابلہ میں غیر حکیمانہ رویہ اختیار کریں۔ حکیمانہ رویہ ہمیشہ حفاظت کا ضامن ہوتا ہے اور غیر حکیمانہ رویہ ہمیشہ نقصان کا باعث بنتا ہے۔
اس معاملہ کا خلاصہ یہ ہے کہ جلوس کے وقت وہاں کے مسلمان اگر منفی ردعمل کا طریقہ اختیار کریں تو مسئلہ مسلم ورسس پولیس بن جائے گا۔ اور اگر وہاں کے مسلمان ایسے موقع پر اعراض کارویہ اختیار کریں تو سارا مسئلہ جلوس ورسس پولیس بن جائے گا۔ اس اصول کی صداقت بار بار فسادات کی صورت میں سامنے آ چکی ہے۔ سورت کا مذکورہ واقعہ اس حکمت کی ایک مثبت مثال ہے۔ دور اول کے مسلمان مخالفین کی سازشوں اور زیادتیوں کے درمیان گھر ے ہوئے تھے۔ اس
‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues