Al-Risala · February 2000 · page

ایک کتاب

الرسالہ، فروری ۲۰۰۰

ہے۔ کسی تاریخی بیان کو مستند تاریخ پر مبنی ہوناچاہیے نہ کہ کسی شاعر کے شعر پر۔ اقبال کا مذکورہ مصرعہ یقینی طور پر ایک شاعرانہ تخیل ہے، اس کا اسلام کی حقیقی تاریخ سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن راج موہن گاندھی نے اس شعر کی بنیاد پر تاریخ کے بارے میں ایک سنگین نظریہ قائم کر لیا۔ یہ بات علمی اعتبار سے سخت قابل اعتراض ہے۔ تاہم یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس غلط تصویر کشی کے زیادہ ذمہ دار اقبال ہیں یا راج موہن گاندھی۔

کچھ مسلم بادشاہوں نے اپنے سیاسی مقصد کے لئے بعض سخت کارروائیاں ضرور کی ہیں مگر ان کا جنر لائزیشن یقینی طور پر درست نہیں ۔ اس معاملہ میں مصنف کے خلاف بدگمانی اس وقت کم ہو جاتی ہے جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ انھوں نے اگر چہ مسلم بادشاہوں کے رول کے بارے میں سخت قسم کے منفی تاثر کا اظہار کیا ہے۔ تاہم انھوں نے مسلم صوفیاء کے مثبت رول کو بہت زیادہ سراہا ہے۔ حتی کہ صوفیاء کا یہ کارنامہ بھی انھیں قابل اعتراض نظر نہیں آتا کہ انھوں نے لاکھوں ہندوؤں کو مسلمان بنایا (صفحہ ۷۵)

مصنف کے بارے میں تعصب کا شبہہ اس وقت اور کم ہو جاتا ہے جب ہم کتاب کا وہ حصہ پڑھتے ہیں جس میں ہند و عہد کا ذکر ہے۔ ہندو عہد کے بارے میں انھوں نے اس سے بھی زیادہ سخت تاثرات کا اظہار کیا ہے۔ مثلاً وہ مہا بھارت کے عہد کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: مہا بھارت کے زمانہ میں انتقامی کارروائیاں عام تھیں اور عفو و درگزر کی حیثیت اتفاقی تھی۔ کہنے کے لئے اگر چہ عفو و درگزر کی بات کہی جاتی تھی مگر عمل زیادہ تر انتقامی ہوتا تھا:

In the Mahabharta, revenge is a fact, reconciliation a fancy; forgiveness is preached, vengeance practised. (p. 16)

کسی کتاب کا معاملہ ہو یا کسی تاریخ کا معاملہ، کوئی رائے قائم کرنے کے لئے ہمیشہ اس کے پورے مجموعہ کو دیکھنا پڑتا ہے۔ کسی جزء کو دیکھ کر رائے قائم کرنا یا اس کو جنرلائز کر دینا علم کے خلاف بھی ہے اور دیانت داری کے خلاف بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues

Printed page