ایک کتاب
الرسالہ، فروری ۲۰۰۰
اس سلسلہ میں ایک اور قابل اعتراض بات علامہ اقبال کے اردو شعر کا انگریزی ترجمہ ہے۔ اقبال کے شعر کے الفاظ یہ تھے: ہر مسلمان رگ باطل کے لئے نشتر تھا۔ اس شعر میں نشتر کے لفظ کا انگریزی ترجمہ نائف (knife) کیا گیا ہے جو کہ درست نہیں۔ یہ ترجمہ مشہور انگریزی رائٹر مسٹر خوشونت سنگھ نے کیا ہے۔ خوشونت سنگھ انگریزی کے اچھے ادیب ہونے کے ساتھ اردو زبان سے بھی واقف ہیں۔ مگر یہ سمجھنا مشکل ہے کہ انھوں نے اس معاملہ میں یہ غلطی کیوں کی۔ اقبال کے شعر میں جو لفظ استعمال کیا گیا ہے وہ ' نشتر' ہے۔ اس کا ترجمہ مسٹر خوشونت سنگھ نے نائف کیا ہے جب کہ دونوں ایک دوسرے سے بنیادی طور پر مختلف ہیں۔ نائف کا لفظ انگریزی میں اس کاٹنے والے آلہ کے لئے بولا جاتا ہے جس کے لئے اردو میں چھری یا چاقو کا لفظ استعمال ہوتا ہے، مگر نشتر اس سے مختلف چیز ہے۔ نشتر کا لفظ اردو یا فارسی میں جراحی آلہ (surgical (knife کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ نشتر کے لئے انگریزی میں صحیح الفاظ یہ ہیں: scalpel, lancet, fleam. اقبال کے اصل الفاظ کے مطابق، ان کے شعر کا مطلب یہ ہے کہ ہر مسلمان رگ باطل کے لئے جراحی آلہ تھا۔ لیکن مسٹر خوشونت سنگھ کے ترجمہ کے مطابق اس کا مفہوم یہ بن گیا کہ : ہر مسلمان رگ باطل کے لئے ایک چھری تھا۔
اقبال کے شعر کو میں تاریخی اعتبار سے درست نہیں سمجھتا۔ اسلام کی پوری تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہر مسلمان باطل کی رگ کے لئے نشتر بنا ہوا ہو۔ باطل کے مقابلہ میں مسلمان کا کام پرامن دعوت ہے نہ کہ جراحی نشتر زنی۔ لیکن ان کے شعر کا مذکورہ انگریزی ترجمہ کرنے والے مترجم بھی یکساں طور پر غلط ہیں۔ اقبال کا کلام اگر خلاف تاریخ ہے تو انگریزی مترجم کا ترجمہ خلاف دیانت۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues