Al-Risala · February 2000 · page

چتر کوٹ کا سفر

الرسالہ، فروری ۲۰۰۰

چتر کوٹ کا سفر

۲۹ دسمبر ۱۹۹۵ کو دہلی سے چتر کوٹ (مدھیہ پردیش) کے لئے روانگی ہوئی۔ یہ سفر اکھل بھارتیہ رچناتمک سماج کی دعوت پر ہوا۔ اس کے تحت ہر سال کسی مقام پر آل انڈیاسمّیلن کیاجاتاہے اس سال ۳۰-۳۱ دسمبر ۱۹۹۵ کو یہ سمّیلن مدھیہ پردیش کے تاریخی قصبہ چتر کوٹ میں ہوا۔ دہلی سے ”مها كوشل ایکسپریس“ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ پہلا تجربہ ہی حوصلہ شکن تھا۔ ٹرین ڈیڑھ گھنٹہ لیٹ ہو کر روانہ ہوئی ۔ یہ ٹرین نام کے اعتبار سے ”مها“ تھی مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ غیر مہا ثابت ہوئی۔ یہ برصغیر ہند کا خاص مزاج ہے۔ یہاں ہر آدمی نام کے اعتبار سے اپنے کو بڑا ظاہر کرتا ہے، حالانکہ اس کا کام حقیقت بڑا چھوٹا ہوتا ہے۔

میرے سامنے کی برتھ پر ایک تبتی بدھسٹ تھے۔ ان کا نام پروفیسر سمدهونی رنپوچے (Prof. Samdhony Rinpoch) تھا، وہ بنارس میں رہتے ہیں۔ انھوں نے بدھزم کے بارے میں کئی باتیں بتائیں۔

سوالات کے دوران انھوں نے بتایا کہ گوتم بدھ کے بارے میں یہ ثابت نہیں ہے کہ وہ کون سی زبان بولتے تھے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ پالی زبان میں انھوں نے اپدیش دیا۔ مگر تاریخی طور پر یہ ثابت نہیں ۔ بدھزم پر جتنی بھی قدیم کتابیں ہیں وہ سب گوتم بدھ کے انتقال کے بعد تحریر کی گئیں ۔ خود گوتم بدھ کے زمانے میں لکھی ہوئی کوئی تحریر آج موجود نہیں۔

۲۰ سال کی عمر میں رنپوچے جی کو تبت سے بھاگنا پڑا تھا۔ اب وہ ہندوستان میں پناہ گزیں کے طور پر رہتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ چین کو تبت سے کیوں اتنی زیادہ دلچسپی ہے۔ انھوں نے کہا کہ چین وشوکتی بننا چاہتا ہے، اور وہ تبت کے بغیر ایسا نہیں بن سکتا۔ ان کے نزدیک ، چین کی نظر انڈیا پر ہے۔ اور تبت کو وہ انڈیا کا دروازہ سمجھتا ہے۔ چین کا یہ خیال ہے کہ وشو مکتی دلانے کے لئے اسے وشو پر قبضہ کرنا ہوگا۔ اس کے لئے وہ انڈیا پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues

Printed page