Chinese threat from Tibet
الرسالہ، فروری ۲۰۰۰
انھوں نے انڈین ایکسپریس کے ۲ دسمبر ۱۹۹۵ میں چھپا ہوا ایک لیٹر دکھایا۔ اس کے لکھنے والے میجر جنرل وی کے مدھوک (ریٹائرڈ) تھے اور اس کا عنوان تھا:
Chinese threat from Tibet
اس میں بتایا گیا تھا کہ چین انڈیا کی سرحد پر میزائلیں نصب کر رہا ہے اور ہمارے ملک کو چین کی طرف سے زبردست خطرہ ہے۔ اس لئے کم سے کم یہ ہونا چاہئے کہ چین اور انڈیا کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کے بارہ میں عدم آغاز کا ایک معاہدہ (no-first-use treaty) کر لیا جائے۔ اس وقت ہندوستان میں ایک لاکھ ۳۰ ہزار (1,30,000) تبتی بطور پناہ گزیں مقیم ہیں۔ ٹرین میں ایک اور خاص آدمی سے ملاقات ہوئی۔ ان کا نام ایشور بھائی پٹیل تھا۔ وہ احمد آباد کے سا برمتی آشرم میں رہتے ہیں۔ وہ نیشنل کمیشن فار صفائی کرم چاری کے اہم ممبر ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے مہاتما گاندھی سے ایک خاص سبق لیا۔ وہ یہ کہ چھوٹا کام لے کر چلو‘ چنانچہ اس سلسلہ میں انھوں نے ۳۰ سالہ ریسرچ کے بعد اس قسم کے بہت سے کام کئے ہیں۔ مثلاً انھوں نے یہ کہا کہ پانی کثرت استعمال کی بنا پر دن بدن نیچے چلا جا رہا ہے۔ انسان پانی کی سطح کو او پر نہیں لا سکتا۔ البتہ وہ پانی کے استعمال کو کم کر سکتا ہے۔ چنانچہ انھوں نے ایسے طریقے ایجاد کئے جن کے ذریعہ پانی کے استعمال کو کم کیا جا سکے۔ انھوں نے بتایا کہ ٹوائلٹ کے عام فلش میں ڈھائی لیٹر پانی ایک بار میں خرچ ہوتا ہے۔ اب انھوں نے ایسا فلش تیار کیا ہے جس میں ایک بار میں صرف ڈیڑھ لیٹر پانی خرچ ہو گا۔
اسی طرح انھوں نے دیہاتوں میں استعمال کے لئے ایسے چولھے تیار کئے ہیں جن میں لکڑی کا خرچ ۲۵ فی صد تک کم ہو گیا ہے۔ مزید یہ کہ اس کا دھواں اوپر چلا جاتا ہے اس لئے گھر کا لا نہیں ہوتا، اور صحت کو نقصان نہیں پہنچتا۔ اس طرح کے کئی کام انھوں نے کئے ہیں جو کہنے میں تو چھوٹے ہیں مگر حقیقت میں بہت بڑے ۔
میرے سامنے کی برتھ پر ایک صاحب انگریزی ناول پڑھ رہے تھے۔ یہ ناول باریک ٹائپ
‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues