Al-Risala · February 2000 · page

James Clavell's GAI-JIN, A Novel of Japan

الرسالہ، فروری ۲۰۰۰

میں ۱۲۳۶ صفحات پر مشتمل تھا۔ اس کا نام اس طرح تھا :

James Clavell's GAI-JIN, A Novel of Japan

اس کے آغاز میں بتایا گیا تھا کہ گائی جن کا مطلب خارجی (foreigner) ہے۔ وہ جاپان کے بعض تاریخی پہلوؤں کا افسانوی بیان تھا۔ تاہم اس میں یہ صراحت کی گئی تھی کہ یہ تاریخ نہیں ہے بلکہ فکشن ہے :

It is not history but fiction.

میں نے سوچا کہ مجھے اگر اس طرح کا ضخیم افسانہ پڑھنے کو کہا جائے تو وہ میرے لئے ایک سزا کے برابر ہوگا۔ لیکن لوگ ایسے ضخیم افسانوں کو مہنگے داموں میں خریدتے ہیں اور انھیں دلچسپی کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ ایک انسان اور دوسرے انسان میں کتنا زیادہ فرق ہے۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ میں علم کے لئے پڑھتا ہوں اور لوگ تفریح کے لئے۔

" جہاز ایک بار لیٹ ہوتا ہے، ٹرین بار بار‘‘ اس کا تجربہ مجھے اس سفر میں ہوا۔ دہلی سے جب ہماری ٹرین لیٹ ہو کر چلی تو درمیان میں وہ بار بار مزید لیٹ ہوتی رہی۔ کسی دوسری ٹرین کو گزارنے کے لئے کئی بار ہماری ٹرین درمیانی اسٹیشنوں پر کھڑی کردی گئی۔ ہوائی جہاز میں یہ مسئلہ نہیں۔ ایک بار جب وہ ہوائی اڈہ سے روانہ ہو جائے تو اس کے بعد وہ درمیان میں لیٹ نہیں ہوسکتا۔ اس کے بعد وہ اپنی منزل پر ہی پہنچ کررکے گا۔

۱۷۷ کلومیٹر کا سفر طے کرکے ہماری ٹرین ۳۰ دسمبر ۱۹۹۵ کی صبح کو چتر کوٹ پہنچی۔ اس وقت گھڑی میں ساڑھے چھ بج رہے تھے۔ جب کہ اس کا اصل وقت ساڑھے چار بجے صبح کا ہے۔ میرے ساتھی پروفیسر سدھونی رن پوچے نے کہا کہ " کبھی لیٹ ہونا اچھا ہوتا ہے۔ " ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر ٹرین ٹھیک وقت پر آتی تو بھی یہاں اندھیر اہوتا۔ دو گھنٹہ لیٹ ہونے کی وجہ سے اب اجالا ہو چکا ہے۔ اور ہم لوگ اطمینان کے ساتھ اپنی قیام گاہ پر جاسکتے ہیں۔

چترکوٹ یوپی اور مدھیہ پردیش کی سرحد پر ہے۔ صرف ایک دریا (منداگنی) دونوں کو الگ کرتا ہے۔ ریلوے اسٹیشن یوپی کے علاقہ میں واقع ہے۔ جلسہ کے منتظمین اسٹیشن پر

‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues

Printed page