It is not history but fiction.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۰
موجود تھے۔ ان کے ساتھ روانہ ہو کر ہم لوگ چتر کوٹ کے گورنمنٹ گیسٹ ہاؤس میں پہنچے۔ یہاں میرا قیام کمرہ نمبر ۲۰۲ میں تھا۔
یہ گیسٹ ہاؤس کھلی جگہ پر واقع ہے۔ میرے کمرہ کے سامنے دور تک سر سبز مناظر ہیں۔ سورج کی روشنی، چڑیوں کی آوازیں، فطرت کا پھیلا ہوا ماحول، اس طرح کی ایک دنیا ہے جو میرے سامنے ہے۔ مجھے فطرت کی دنیا اتنی زیادہ پسند ہے کہ جی چاہتا ہے کہ وہیں جا کر بس جاؤں۔ مگر انسان ایک متمدن مخلوق ہے۔ جنگلوں میں مستقل رہائش اختیار کرنا اس کے لئے ممکن نہیں۔ گیسٹ ہاؤس میں لوگ میرے کمرہ میں آتے رہے، اور ان سے مفید اور معلوماتی گفتگوئیں ہوتی رہیں۔ مسٹر ڈی این بنرجی آئی اے ایس (رٹائرڈ سکریٹری) آجکل دہلی (کنگز وے کیمپ) میں واقع ہر یجن سیوک سماج کے سکریٹری ہیں۔ (7234851 .Tel) انھوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حضرت محمد صاحب نے عظیم طاقت حاصل کی۔ مگر ان کی شخصیت کا زیادہ اہم پہلو یہ ہے کہ انھوں نے اپنی طاقت کو ضبط و تحمل کے ساتھ استعمال کیا جس میں بعد کی نسلوں کے لئے سبق ہے :
Hazrat Mohammad weilded great power in himself but the greater part of him is that he exercised even more restraint in the exercise of his powers which should serve as a lesson to posterity. D.N. Banerjee, Secretary, Harijan Sevak Sangh, Kingsway Camp, Delhi-9 (Tel. 7234851)
جموں سے بھی کئی لوگ اس کانفرنس میں آئے ہیں۔ ان میں سے ایک ۶۰ سالہ خاتون پروفیسر کوشليا والی ہیں۔ وہ جموں یونیورسٹی میں سنسکرت کی استاد ہیں۔ مہا کوشل اکسپریس جس سے میں چتر کوٹ پہنچا اسی سے وہ بھی یہاں آئی ہیں۔
گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ میں پہلے سے آپ کو نہیں جانتی تھی۔ مگر ریلوے اسٹیشن پر آپ کو دیکھا تو مجھے آپ کی آنکھوں میں اور آپ کے چہرہ پر بڑی روحانیت نظر آئی۔ اس لئے میں آپ سے ملنے کے لئے آئی ہوں۔ انھوں نے درد کے ساتھ کہا: یہ گاندھی کے ہندوستان کو کیا ہوا۔ آپ تو
‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues