It is not history but fiction.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۰
تجربہ کار ہیں، کچھ راستہ نکالیے کہ پھر سے دیش پہلے جیسا ہوجائے۔
Prof. Koshelya Walli, 20, Rajendra Nagar, Canal Road Jammu (Tawi) Pin-180001 Tel. (Res.) 543545 اکھل بھارتیہ رچناتمک سماج کا تخیل مہاتما گاندھی کا دیاہواہے ۔ ونوبابھاوے کانام بھی اس میں شامل ہے۔ تاہم اس کو موجودہ نام کے ساتھ نظم انداز میں نرمل دیش پانڈے (ایم۔ پی) نے ۱۹۸۲ میں قائم کیا۔ نرمل دیش پانڈے (۶۲ سال) اس کی آل انڈیا صدر ہیں۔ سماجی خدمت میں مشغول ہونے کی وجہ سے انھوں نے شادی نہیں کی۔ وہ دہلی سے ایک ہندی پندرہ روزہ نتیہ نوتن کے نام سے نکالتی ہیں۔ چترکوٹ میں اس کا شمارہ یکم جنوری ۱۹۹۵ مجھے دیکھنے کو ملا۔ اس میں ایک مضمون پروفیسر محمد ہاشم قریشی (جے این یو) کا تھا۔ اس کا عنوان تھا: اسلام اور اہنسا۔ اس کے چند جملے یہ تھے: ”اہنسا ویروں کا بھوشن ہے، کاپروں کا نہیں۔ اہنسا کے لئے دل بڑا اور انوبل اونچا ہونا چاہئے۔۔ ویر لڑتے ہیں سدھانتوں کے لئے، یدھ کے لئے نہیں۔ کمزوروں، عورتوں اور بچوں کی رکشا کے لئے لڑنا بھی اہنسا کا ہی مارگ ہے۔ ۔ اتہ اوشیک ہے کہ اسلام کے سدھانتوں کے آدھار پر اس کے انو یائیوں کو آنکا جانا چاہئے نہ کہ انو یائیوں کے بیوہارکے آدھارپر اسلام کو۔ مسلمان کی کمزوری اسلام کی کمزوری نہیں ہے۔ “ یہاں کچھ اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلم خاتون آئی ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک جلگاؤں کی تھیں جن کا فیملی بیک گراؤنڈ کانگریسی تھا۔ دوسری خاتون دہلی سے تھیں جن کا فیملی بیک گراؤنڈ مسلم لیگ سے تعلق رکھتا تھا۔ دونوں میں گفتگو ہو رہی تھی۔ ایک نے کہا کہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان میں کوئی لیڈر شپ نہیں۔
میں نے کہا کہ میری رائے تھوڑی سی مختلف ہے۔ میرے نزدیک مسلمانوں کا اصل مسئلہ فقدان قیادت کا نہیں ہے بلکہ فقدانِ قبولیت قیادت کا ہے۔ مثال کے طور پر سر سید اور مولانا آزاد دونوں مسلمہ طور پر قیادت کی پوری صلاحیت رکھتے تھے۔ مگر دونوں ہی کے معاصرین نے انھیں رد کر دیا۔ سرسید کو
‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues