Al-Risala · February 2000 · page

آوت جات پنھیاٹوٹی سنتن کو سیکریا سے کیا کام

الرسالہ، فروری ۲۰۰۰

انگریزوں کا ایجنٹ کہا گیا اور مولانا آزاد کو ہندوؤں کا ایجنٹ۔ پھر میں نے کہا کہ ہم زمانہ لوگوں کی قبولیت سے کوئی شخص لیڈر بنتا ہے نہ کہ مرحوم ہو جانے پر بعد کے لوگوں کی قصیدہ خوانی سے۔ ۳۰دسمبرکی دوپہرکوگیسٹ ہاؤس سے جلسہ کے لئے روانگی ہوئی۔ قریب پہنچے تو سڑک پر انسانوں کا ایک ہجوم نعرہ لگاتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ یہ سب دیہات سے آئے ہوئے عورت اور مرد تھے۔ ایک نعرہ کے الفاظ یہ تھے: ایک بنیں گے، نیک بنیں گے۔ اس کے علاوہ مہاتما گاندھی امر رہے، انقلاب زندہ باد کے نعرے بھی تھے۔ میں گیٹ کے پاس پہنچا تو مجھ سے کہا گیا کہ یہ لوگ آپ کا آشرواد چاہتے ہیں۔ انھیں اپنا آشرواد دیجئے۔ دستی مائکروفون پر میں نے مختصر طور پر کچھ اخلاقی باتیں کہیں اور ان کو دعائیں دیں۔

رام چرت مانس کے مصنف تلسی داس بھی چتر کوٹ آئے تھے۔ یہاں رہ کر انھوں نے اپنی کتاب تیار کی ۔ ایک پنڈت جی نے بتایا کہ تلسی داس کے پاس اکبر بادشاہ کا پیغام آیا جس میں انھیں سیکری (راج دھانی) بلایا گیا تھا۔ تلسی داس خود نہیں گئے۔ انھوں نے ایک دوہا لکھ کر اکبر بادشاہ کو بھیج دیا:

آوت جات پنھیاٹوٹی سنتن کو سیکریا سے کیا کام

یعنی تمھارے یہاں آنے جانے میں میرا چپل ٹوٹ جائے گا۔ میں ایک سنت ہوں سنت کو سیکری سے کیا مطلب۔

۳ دسمبر کی دوپہر کو جلسہ کا افتتاح تھا۔ رام لیلا میدان کے ایک وسیع پنڈال میں ملک کی چودہ ریاستوں سے آئے ہوئے پندرہ ہزار سے زیادہ آدمی جمع تھے۔ یہاں مختلف لوگوں نے تقریریں کیں۔ دیدی نرمل دیش پانڈے نے کہا کہ تلسی داس نے اپنی رام چرت مانس اسی چتر کوٹ میں بیٹھ کر لکھی تھی۔ اس کا ایک شعر یہ تھا:

چتر کوٹ کے گھاٹ پر بھئی سنتن کی بھیڑ تلسی داس چندن گھسیں تلک دینہ رگھو بیر انھوں نے کہا کہ آج دوبارہ اسی چتر کوٹ میں سنتوں کی بھیڑ ہو رہی ہے۔ اجودھیا میں ایک

‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues

Printed page