حکمتِ اعراض
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۱۸
وقت نصیحت کرتے ہوئے ان سے کہا گیا کہ : اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی سازش تم کو نقصان نہ پہنچائے گی ۔ (آل عمران (۱۲۰) اب یہ غور کیجئے کہ دشمن کی سازشوں کے مقابلہ میں صبر کس طرح ڈھال بن جاتا ہے ۔ اور زیر سازش گروہ کو اس کے نقصان سے محفوظ رکھتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں جب بھی کوئی نا خوشگوار صورت حال پیش آئے تو اس کے مقابلہ میں رد عمل کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اشتعال انگیز صورت حال کو دیکھ کر آدمی بھڑک اٹھے اور فوری جذبات کے تحت جوابی کارروائی کرنے لگے۔ اور دوسرا یہ کہ فریق ثانی کی طرف سے اشتعال انگیزی کے باوجود وہ مشتعل نہ ہو بلکہ اپنے جذبات کو روک کر پورے معاملے پر غور کرے۔ اور اس کے بعد جو کچھ کرے ٹھنڈے ذہن کے تحت سوچ سمجھ کر کرے۔
مذکورہ تقسیم میں پہلی قسم کے رد عمل کا نام غیر صابرانہ رد عمل ہے اور دوسری قسم کے رد عمل کا نام صابرانہ رد عمل۔ دوسرے لفظوں میں اس فرق کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ غیر صابرانہ رد عمل پیش آمدہ صورت حال کا جذباتی جواب (emotional response) ہے۔ اس کے برعکس صابرانہ رد عمل یہ ہے کہ پیش آمدہ صورت حال کے مقابلہ میں جو جوابی کارروائی کی جائے وہ ایک سوچا سمجھا جواب (considered response) ہو۔
صبر کوئی بے عملی نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی کے سامنے کوئی نا پسندیدہ صورت حال پیش آئے تو وہ پست ہمت ہو کر بیٹھ جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر اعلیٰ ترین بہادری ہے۔ جب ایک آدمی بے صبری کے ساتھ جذباتی اقدام کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے جذبات سے مغلوب ہو گیا۔ اس کے برعکس جب ایک آدمی صبر والی روش اختیار کرتا ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ اس نے اپنے بھڑکے ہوئے جذبات کو قابو میں رکھا۔ اس نے اپنے جذبات کو اپنی عقل پر غالب ہونے نہیں دیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues