آوت جات پنھیاٹوٹی سنتن کو سیکریا سے کیا کام
الرسالہ، فروری ۲۰۰۰
انسان نے جنم لیا، اور چتر کوٹ نے اس کو بھگوان بنا دیا۔ انھوں نے کہا کہ رام راجیۃ وہ ہے جہاں کوئی کسی سے بیر نہ کرے، جہاں نفرت اور بیر ہو وہ راون راج ہے۔ انھوں نے کہا کہ ونو با جی کہا کرتے تھے کہ ہندوستان کا دماغ شہر میں ہے مگر ہندوستان کا دل گاؤں میں ہے۔
ایک ہندو ودّوان نے بتایا کہ دنیا میں اٹھارہ الگ الگ رامائن ہیں۔ سب سے پہلے والمیکی نے رامائن لکھی تھی۔ اس کے بعد کئی لوگوں نے رامائن لکھی۔ ان میں سے ایک تلسی داس کی رامائن ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر اٹھارہ قسم کی رامائن ہیں۔ اگر والمیکی کی رامائن کو اصل قرار دیا جائے تو بقیہ سترہ رامائنیں اس کی تشریح قرار پائیں گی۔
یہاں ناناجی دیش مکھ سے بھی ملاقات ہوئی۔ انھوں نے چتر کوٹ میں ایک یونیورسٹی (مہاتما گاندھی وشوو دیالیہ) بنائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے نوکریوں کی طرف دوڑتے ہیں۔ ہم اس یونیورسٹی میں یہ ذہن بنانا چاہتے ہیں کہ تعلیم نوکری کے لئے نہیں ہوتی۔ وہ انسان بنانے کے لئے ہوتی ہے۔
مسٹر پنچم لال، آئی اے ایس پٹنہ سے آئے تھے۔ (235209 .Tel) وہ نہایت ذہین اور جرات مند آدمی ہیں۔ وہ وہاں کلکٹر ہیں۔ مگر وہ نہ کسی نیتا کی سنتے ہیں اور نہ حکومت کی۔ وہ وہی کرتے ہیں جو انصاف کا تقاضا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کا نباہ کیسے ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مجھے نوکری کی پرواہ نہیں۔
وہ نہایت شستہ اردو بول رہے تھے۔ انھوں نے اقبال کے کئی شعر سنائے۔ مثلاً حسب ذیل شعر: اہل دانش عام ہیں کم ہیں مگر اہل نظر کیا تعجب ہے کہ خالی رہ گیا میرا ایاغ سمین کے منچ پر میری نشست نرمل دیش پانڈے کے پاس تھی۔ درمیان میں انھوں نے منتظمین میں سے ایک شخص کو بلایا اور اس سے آہستہ سے کہا: کہا:دیکھیے لوگ بہت منچ پر آ رہے ہیں۔ اپنے لوگوں کو اتار دیجئے ۔ منچ اگر چہ بہت بڑا تھا لیکن باہر کے مہمان ہی بہت کافی تھے۔ اور اس کی گنجائش نہیں تھی کہ تنظیم کے لوگ بھی آ کر یہاں بیٹھیں ۔ اس لئے انھوں نے ایسا کہا۔ میں نے سوچا
‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues