آوت جات پنھیاٹوٹی سنتن کو سیکریا سے کیا کام
الرسالہ، فروری ۲۰۰۰
کہ یہی صحیح اخلاقی اصول ہے کہ اپنوں کے ساتھ سختی اور دوسروں کے ساتھ نرمی کی جائے۔ جو لوگ اس کے برعکس عمل کریں، وہ اپنوں کے لئے نرم اور دوسروں کے لئے سخت بن جائیں، وہ کبھی کوئی بڑا کام نہیں کر سکتے۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ نیکی کی بات کرتے ہیں۔ بشر میں تو دو بے تین شر ہے۔ ایسی حالت میں تو شر ہی کو غلبہ رہے گا۔ میں نے کہا کہ اس کو اور ڈھنگ سے دیکھئے تو برعکس طور پر آپ کو نظر آئے گا کہ بشر میں شر بہت کم ہے۔ آپ بشر میں شین کا حرف نکال دیجئے ۔ اس کے بعد وہ بر بن جائے گا۔ بر کا مطلب نیکی ہے۔ اب آپ کو دکھائی دے گا کہ بشر میں دو بے تین نیکی ہے۔ اس طرح کی لفظی باتیں محض لطیفہ ہوتی ہیں۔ ان کو دلیل نہیں کہا جا سکتا۔ دلیل وہ ہے جو حقیقی واقعات پر مبنی ہو، نہ کہ لفظی الٹ پھیر کی بنیاد پر۔
ایک صاحب نے کہا کہ مسلم مہلائیں ساری دنیا میں اتنی زیادہ کھچڑی ہوئی ہیں، اس کا کارن کیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ سارا معاملہ آپ کے غلط جنرلائزیشن کا ہے۔ اگر آپ اس واقعہ کو لیں کہ دنیا میں تین مسلم دیشوں (پاکستان، بنگلہ دیش، ترکی) میں مسلم مہلائیں راج کر رہی ہیں اور اس کو جنرلائز کریں تو آپ کا سوال بدل جائے گا۔ اب آپ کہیں گے کہ مسلم مہلائیں ساری دنیا میں اتنی زیادہ آگے ہیں، اس کا کارن کیا ہے۔ مگر آپ نے کسی خاص محلہ کی کچھ مسلم مہلاؤں کو لیا اور ان کو جنرلائز کر دیا تو آپ کو ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ مسلم مہیلائیں بہت زیادہ کھچڑی ہوئی ہیں۔
چتر کوٹ میں ملک کے مختلف حصوں سے لوگ آئے تھے۔ ایک صاحب بنگال کے تھے۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ انھوں نے اپنے آپ کو گاندھی بھکت بتایا۔ میں نے کہا کہ بنگالی کے بارہ میں پہلا تصور یہ ہوتا ہے کہ وہ انقلابی ہوگا۔ وہ سبھاش چندر کو ماننے والا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے۔ سبھاش چندر بوس ایک پر جوش آدمی تھے۔ مگر دیر پا انقلاب (sustainable revolution) کی طاقت صرف گاندھی کی آئیڈیالوجی میں تھی۔ میں نے کہا کہ مگر آزادی کے بعد کے ہندوستان نے تو
‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues