But, historically, it is debatable.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۰
بہت بڑے میدان میں اسٹیج بنایا گیا تھا۔ ہندوستان بھر کے لوگ اس میں آئے ہوئے تھے۔ یہاں اسٹیج پر جن لوگوں سے ملاقات ہوئی ان میں سے ایک پھلہاری باباتھے جواجودھیاسے آئے تھے۔ وہ سچے سادھو ہیں۔ وہ بابری مسجد کو توڑ کر مندر بنانے کے سخت خلاف تھے۔ اب بھی مقامی طور پر زیادہ ہندو انھیں کے ساتھ ہیں۔ مگر باہر سے آئے ہوئے لوگ اور گورنمنٹ کی بے عملی کی وجہ سے ۶ دسمبر ۱۹۹۶ کا حادثہ پیش آیا۔ انھوں نے حکومت کے اعلیٰ ذمہ داروں سے مل کر کہا کہ اگر آپ ساتھ دیں تو میں سیکڑوں سادھوؤں کو لے کر موجودہ مندر کو توڑ کر دوبارہ وہاں مسجد بنا دوں گا۔ مگر انھیں حکومت کا تعاون نہیں ملا۔ ان کا پتہ یہ ہے:
Phalahari Baba, Rajgopal Mandir, Ayodhya, Faizabad. (Tel.2042)
یہاں بہت سے لوگ ملے جنھوں نے اخبارات میں میرے مضامین پڑھے تھے یا مجھ کو ٹی وی پر دیکھا تھا۔ کچھ ایسے بھی تھے جو الرسالہ کے باقاعدہ قاری تھے۔ انھیں میں سے ایک محمد اسماعیل جملے تھے ۔ وہ جالنہ سے آئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ الرسالہ سے پہلے وہ الجمعیۃ ویکلی میں میرے مضامین پڑھا کرتے تھے۔
ہر تحریک اپنے وابستگان کے اندر کوئی خاص مزاج بناتی ہے۔ مثلاً سیاسی مزاج، احتجاجی مزاج، قومی مزاج وغیرہ۔ الرسالہ مشن کے سلسلہ میں میرا تجربہ ہے کہ جو لوگ پابندی سے اس کو پڑھتے ہیں ان کے اندر بھی ایک مخصوص مزاج بنتا ہے۔ یہ سنجیدگی اور حقیقت پسندی کا مزاج ہے۔ غالباً یہ صرف الرسالہ کی خصوصیت ہے کہ وہ اپنے قارئین میں اس قسم کا مزاج بناتا ہے۔ کسی اور تحریک کے سلسلہ میں کم از کم میں نے ایسا تجربہ نہیں کیا۔ اسی طرح تنقید کو برداشت کرنے کا مزاج بھی الرسالہ والوں میں دوسروں سے زیادہ ہوتا ہے۔
ایک صاحب نے کہا کہ قرآن میں یہ لکھا ہوا ہے کہ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے۔ یہ تو سائنس کی دریافت کے خلاف ہے۔ پھر آپ اس کی کیا توجیہہ کریں گے۔
میں نے کہا کہ قرآن میں ایسا موجود ہی نہیں۔ آپ کی مراد غالباً اس آیت سے ہے جس کے
‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues