Al-Risala · February 2000 · page

But, historically, it is debatable.

الرسالہ، فروری ۲۰۰۰

الفاظ ہیں کہ: والشمس تجری لمستقر لھاذالک تقدیر العزیز العلیم (یس) انھوں نے کہا کہ ہاں، میں نے کہا کہ اس آیت میں یہ کہاں لکھا ہوا ہے کہ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے۔ اس میں جو بات ہے وہ یہ کہ سورج کا ایک مستقر یعنی اس کا ایک معین مدار ہے جس پر وہ گردش کرتا ہے۔ اور یہ عین سائنٹفک بات ہے۔ اس دنیا میں ذرہ سے لے کر بڑی بڑی کہکشاؤں تک کا نظام یہ ہے کہ ہر ایک کا ایک مرکز (مستقر) ہے، اور ہر چیز اپنے اپنے مرکز کے گرد گھوم رہی ہے۔ زمین کا مستقر سورج ہے۔ اور سورج کا مستقر کچھ اور ہے۔ قرآن میں سورج کے خود اپنے مستقر کے گرد گھومنے کا ذکر ہے نہ کہ زمین کے گرد گھومنے کا۔

اس طرح کے اجتماعات کا سب سے بڑا فائدہ میرے نزدیک یہ ہے کہ اس میں بڑے پیمانہ پر لوگوں سے ملنے کا موقع ملتا ہے۔ ایک صاحب سے میں نے کہا کہ بالفرض اگر کوئی اور فائدہ نہ ہو تب بھی صرف ملنے کی خاطر (interaction for the sake of interaction) اس کو جاری رہنا چاہئے۔

جو لوگ صرف ہم قوم یا ہم مذاق لوگوں سے ملیں ان کی فکری ترقی یقینی طور پر رک جائے گی ۔ فکری ترقی کو مسلسل جاری رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہر قسم کے لوگوں سے ملا جائے۔ حتی کہ ان لوگوں سے بھی جو ہم سے الگ رائے رکھتے ہوں۔ جو بظاہر ہمارے مخالف یا ہمارے دشمن ہوں۔ ملنا جلنا ہمیشہ مفید ہوتا ہے، بشرطیکہ کھلے ذہن کے ساتھ ملاقات کی جائے۔

اس وقت رات کے ۸ بجے ہیں۔ اور میں گیسٹ ہاؤس میں اپنے کمرہ میں بیٹھا ہوا یہ سطریں لکھ رہا ہوں۔ اچانک مجھے خیال آیا کہ جب میں کمرہ کا دروازہ کھول کر اس میں داخل ہوا تو اندر بالکل اندھیرا تھا۔ پھر بجلی کی سوئچ دبانے کے بعد اجالا ہو گیا اور یہ ممکن ہو گیا کہ میں اس کے اندر لکھ پڑھ سکوں۔

بظاہر یہ ایک سادہ سی بات ہے جو ہر روز ہر آدمی کے ساتھ پیش آتی ہے۔ تاہم اگر سوچیے تو اس میں بہت بڑی ایمانی خوراک موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخصوص حکمت کے تحت دنیا کو اس طرح بنایا

‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues

Printed page