Al-Risala · February 2000 · page

But, historically, it is debatable.

الرسالہ، فروری ۲۰۰۰

ہے کہ یہاں باربار اجالااوراندھیراآتارہے تاہم مختلف اسباب سے رات کے وقت بھی انسان کو روشنی کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ اس کے لئے خدا نے مصنوعی روشنی کا امکان دنیا کے اندر رکھ دیا ہے۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے ٹرین اور جہاز میں عمومی لائٹ بجھانے کے بعد بھی ایک نجی لائٹ ہوتی ہے جس کو محدود طور پر روشن کر کے کوئی شخص اپنی ضرورت پوری کر لیتا ہے۔ سورج کی عمومی روشنی کے ساتھ مصنوعی روشنی کا محدود انتظام واضح طور پر منصوبہ بندی کا ثبوت ہے۔ ۔ اورمنصوبہ بندی ثابت ہونے کے بعد اپنے آپ منصوبہ ساز کا وجود ثابت ہو جاتا ہے۔

۳ دسمبر کو دوپہر کا کھانا میں نے کمرہ میں منگا لیا تھا۔ شام کا کھانا لوگوں کے ساتھ کھانے کے لئے ڈائننگ ہال میں چلا گیا۔ وہاں ہم لوگ ایک میز کے گرد نو آدمی تھے۔ لوگ مسلسل بول رہے تھے۔ مگر میں بالکل خاموش سر جھکائے ہوئے بیٹھا تھا۔ دیر تک مجھے اس طرح سکوت کی حالت میں دیکھنے کے بعد ایک تعلیم یافتہ ہندو خاتون نے کہا: ’’مولانا صاحب اپنے میں رہتے ہیں، خدا کے ساتھ‘‘ میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ تاہم میرا حال یہ ہے کہ مجھے بولنے سے زیادہ چپ رہنا پسند ہے۔ چپ رہنے کا مطلب سوچنا یا ذکر فکرا ہے، اور سوچنا یا ذکر و فکر کرنا بلا شبہ ایک عبادت ہے۔ ہال کے اندر ٹی وی چل رہا تھا۔ اس پر گانے کی آواز آرہی تھی۔ جموں سے آئے ہوئے ایک صاحب نے کہا کہ آجکل عجیب حال ہوگیاہے ۔ ہندستانی گانے ویسٹرن ٹیون پر آتے ہیں۔ یہ تو ہندستانی گانوں کو تباہ کر دے گا۔

اس قسم کی نقل مذہب میں بھی بڑے پیمانہ پر رائج ہے۔ لوگ اپنے مذہبی عمل کو خارجی شکلوں کے ساتھ ادا کر رہے ہیں۔

ایک صاحب (مسٹر جوشی) نے مسلم پرسنل لا میں ریفارم کی ضرورت بتاتے ہوئے کہا کہ قوانین کبھی مقدس نہیں ہوتے، اور نہ ابدی اور ناقابل تغیر ہوتے ہیں۔ ایسا ہونا ممکن نہیں۔ کیوں کہ سماج کوئی جامد چیز نہیں۔ اور قوانین اس لئے بنائے جاتے ہیں کہ وہ اس بات کی ضمانت دیں کہ بدلتے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues

Printed page