But, historically, it is debatable.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۰
ہوئے سماج میں انصاف اور ہم آہنگی فراہم کر سکیں:
Laws are not sacrosanct, unchanging and eternal. They cannot be. Because society is not static. And laws are designed to ensure just and harmonious social relationship in a changing society. میں نے کہا کہ آپ کی یہ بات قدیم قیاسی منطق پر مبنی ہے جو اب علمی دنیا میں ختم ہو چکی ہے۔ آپ نے پیشگی طور پر فرض کر لیا کہ قوانین ہمیشہ قابل تغیر ہوتے ہیں، اس لئے اسلامی قانون کو بدلنا چاہئے۔ اس کے بجائے استدلال کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ پہلے اسلام کے قانون سے مثال دے کر یہ ثابت کریں کہ فلاں قانون فلاں متعین سبب کی بنا پر قابل تبدیلی ہو گیا ہے۔ اس کے بعد تبدیلی کا مطالبہ کریں۔ مگر آپ حقیقت کے بجائے مفروضہ کی بنیاد پر تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ایسا مطالبہ یقینی طور پر غیر علمی اور ناقابل قبول ہے۔
ایک تعلیم یافتہ ہندو نے بتایا کہ ہمارے مولوی صاحب بچپن میں اپنے اشعار کے ذریعہ ہم کو جغرافیہ پڑھایا کرتے تھے۔ مثلاً انھوں نے سری لنکا کا جغرافیہ اس طرح ہمیں یاد کرایا تھا : اک طرف لٹکاہوالنکابہ شکل آم ہے مجھے یاد آیا کہ اقبال احمد سہیل مرحوم نے اسی طرح کئی تاریخی کلمات موزوں کئے تھے۔ مثلاً محمود غزنوی کے داخلہ ہندوستان (۱۰۰۱) کے لئے : ادھر ادھر ڈنڈا، بیچ میں دوائنڈا۔ ۳۱ دسمبر کی صبح کو نماز فجر ادا کی۔ اس کے بعد گیسٹ ہاؤس کی لمبی بالکنی میں ٹہلنے لگا۔ اس وقت فضا میں کہر چھایا ہوا تھا۔ ہر چیز گہرے کہر میں ڈوبی ہوئی تھی۔ قریب کے درخت بھی صاف دکھائی نہیں دیتے تھے۔ سورج نکلنے کے ساتھ فضا صاف ہونا شروع ہوئی۔ یہاں تک کہ ہر چیز صاف دکھائی دینے لگی۔ میں نے سوچا کہ اسی طرح ایک اور کہر ہے جس نے موجودہ زمانہ میں تمام اعلیٰ حقیقتوں کو ذہنوں سے اوجھل کر دیا ہے۔ اس کو ذہنی کہر آلودگی (beffoging of mind) کہہ سکتے ہیں۔ یہ دوسرے قسم کا کہر پریس کے دور نے پیدا کیا ہے۔ لوگوں نے غلط قسم کی باتیں اور حقائق کی غلط تعبیرات اس طرح پھیلا دی ہیں کہ اب وہ انسانی ذہنوں پر پردہ بن کر چھا گئی ہیں۔ آدمی حقیقتوں کو ان کی صحیح
‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues