But, historically, it is debatable.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۰
صورت میں دیکھ نہیں پاتا۔ ہر آدمی غلط سوچ کا شکار ہو کر رہ گیا ہے۔
میں نے سوچا کہ فضائی کہر کو تو سورج نے ختم کر دیا ، یہاں تک کہ ماحول کی ہر چیز اپنی واقعی صورت میں دکھائی دینے لگی۔ مگر ذہنی کہر کو کون صاف کرے گا۔ پھر خیال آیا کہ قیامت کا دن اس کے لئے عظیم تر سورج کی مانند ہو گا۔ اس وقت تمام حقیقتیں اپنی اصلی صورت میں دکھائی دینے لگیں گی۔ کامیاب وہ ہے جو اس سے پہلے اپنی چشم بصیرت سے حقیقتوں کو دیکھ لے۔ جو آدمی حقیقتوں کو قیامت کا سورج نکلنے کے بعد دیکھے، اس کے لئے وہ دن حسرت اور محرومی کا دن ہوگا نہ کہ کامیابی کا دن ۔
جلسہ کے منتظمین کا اندازہ تھا کہ موسم اچھا نہ ہونے کی وجہ سے شاید زیادہ آدمی نہ آسکیں ۔ مگر ۳۱ دسمبر کو بیس ہزار سے زیادہ آدمی چتر کوٹ کے رام لیلا میدان میں جمع ہو چکے تھے۔ یہ تعداد راشن ٹکٹ کی بنیاد پر تھی۔ اس کے علاوہ بہت سے لوگ اور تھے جنھوں نے یہاں کھانا نہیں کھایا اس لئے انھوں نے ٹکٹ بھی نہیں لیا۔ ایک صاحب نے دور تک انسانوں کی بھیڑ کو دیکھ کر کہا کہ میرے خیال سے دو لاکھ آدمی ہوں گے۔ نظر کی بنیاد پر جو اندازے قائم کئے جاتے ہیں وہ اکثر غلط ہوتے ہیں۔ یہ لوگ ہندوستان کے کونے کونے سے آئے تھے۔ بارش، جاڑے کا موسم، ٹرینوں اور بسوں کا صبر آزما سفر، کوئی چیز انھیں روک نہ سکی۔ بہت سے لوگ تو سیکڑوں میل دور سے بائیسکلوں کے ذریعہ سفر کر کے یہاں پہنچے تھے۔ جب کہ انھیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ وہاں ان کے لئے کھانے اور ٹھہرنے کا کیا انتظام ہوگا۔
اس کے پیچھے موونگ فورس کیا ہے۔ یہ غالباً ایک ہی نفسیات ہے جو ہندوؤں اور مسلمانوں اور دوسرے گروپوں میں مشترک طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ اور وہ ہے تاریخ کا زور۔ اکھل بھارتیہ رچناتمک سماج کی پشت پر گاندھی، و نو با بھاوے اور جے پر کاش نرائن جیسے بڑے لوگوں کے نام شامل ہیں ۔ لوگ اپنے انھیں ’ اکابر‘ کے نام پر ہر طرف سے دوڑے چلے آرہے ہیں۔ خدا یا حقیقت اعلیٰ کے لئے دوڑنے والے شاید نہ مسلمانوں میں ہیں اور نہ ہندوؤں میں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues