Al-Risala · February 2000 · page

But, historically, it is debatable.

الرسالہ، فروری ۲۰۰۰

۳۱ دسمبر کو گیارہ بجے دوسرا سیشن شروع ہوا۔ اس کا موضوع سرودھر م سمبھاؤسمیلن تھا۔ سب سے پہلے ایک پارٹی نے مذہبی گیت گایا۔ اس کا ایک حصہ یہ تھا:

تری ذات پاک قرآن میں تری درس وید پران میں گرو گرنتھ جی کے بکھان میں تو پرکاش اپنا دکھا رہا پچھلے ۲۵ سال سے میں دنیا کے مختلف حصوں میں ہر مذہب کی کانفرنس میں شریک ہوتا رہا ہوں۔ میرا احساس یہ ہے کہ مذہبی ڈائیلاگ کی راہ میں دو قسم کے مسائل ہیں۔ سامی مذاہب میں یہ مسئلہ ہے کہ ہر مذہبی گروہ اپنے ہی کو سچا سمجھتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں آرین مذاہب کا مسئلہ لوگوں کا یہ سمجھنا ہے کہ ہر مذہب سچا ہے۔ دونوں باتیں بظاہر ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ مگر ڈائیلاگ کے عمل کو مؤثر طور پر جاری رکھنے کے لئے دونوں یکساں طور پر مسئلہ ہیں۔ پونے بارہ بجے ہیلی کاپٹر کی گڑگڑاہٹ کی آواز آئی۔ معلوم ہوا کہ اتر پردیش کے راج پال موتی لال وورا آچکے ہیں۔ تھوڑی دیر کے بعد کاروں کے قافلہ کے ساتھ وہ پنڈال میں داخل ہوئے۔

۳۱ دسمبر کے سرودھرم سمیلن میں پہلی تقریر مجھے کرنی تھی۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ اسلام کے بارہ میں آج بہت غلط فہمیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ اسلام کو نفرت کا یا مارکاٹ کا مذہب سمجھ لیا گیا ہے۔ مگر یہ بالکل الٹی بات ہے۔ اسلام سرتا سرا من اور محبت کا مذہب ہے۔ اسلام کا مقصد آدمی کو مادی کے بجائے روحانی بنانا ہے۔ اسلام جب کسی کے دل میں اترتا ہے تو وہ آدمی کے جینے کی سطح کو بلند کر دیتا ہے۔ ایسا آدمی نفرت اور تشدد جیسی چیزوں سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔ پھر وہ غیر انسانی کام کیسے کرے گا۔ میں نے مختلف حدیثیں سنائیں ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ واقعات سنائے اور بتایا کہ آپ کا دل کس طرح ساری انسانیت کے لئے شفقت اور محبت سے بھرا ہوا تھا۔ آپ انسان کو ہر حال میں انسان کے روپ میں دیکھتے تھے، خواہ وہ اپنا ہو یا غیر۔

حقیقت یہ ہے کہ تمام مذاہب محبت ہی کا سبق دیتے ہیں۔ اقبال نے درست کہا ہے: مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا

‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues

Printed page