But, historically, it is debatable.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۰
آخر میں میں نے کہا کہ خدا سے میری دعا ہے کہ وہ ہم سب کو انسانیت اور پیار کے ساتھ رہنے کی توفیق دے۔ کیوں کہ پیار سے بھرے ہوئے سینے ہی اس دیش کو آگے لے جائیں گے۔ شآنتی کی بانی بولنے والے لوگ ہی کسی نئے مستقبل کی تعمیر کریں گے۔
آج مجمع کافی تھا۔ پنڈال میں ۲۵ ہزار سے زیادہ لوگ اکٹھے تھے۔ ان میں چند کو چھوڑ کر سبھی ہندو تھے۔ میں نے اسلام پر تقریر کی تو پوری کانفرنس میں سب سے زیادہ خاموشی چھائی رہی۔ لوگ انتہائی توجہ کے ساتھ میرا ایک ایک لفظ سنتے رہے۔ یوپی کے گورنر موتی لال وو رانے آخر میں کہا: بہت اچھا لگا آپ کا بیان۔
میں نے سوچا کہ اس ملک میں اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے کتنے زیادہ مواقع تھے۔ مگر مسلم رہنماؤں نے صرف ان مواقع کو بر باد کیا۔ انھوں نے برادران وطن سے مناظرہ بازی چھیڑ دی۔ بٹوارہ کی آندھی چلا کر دونوں فرقوں کو ایک دوسرے سے دور کیا۔ احتجاج اور حقوق طلبی کے ذریعہ فضا میں تلخی پیدا کرتے رہے۔ ایک کے بعد ایک ایسی تحریکیں اٹھائیں جو صرف نفرت اور تناؤ کو بڑھانے والی تھیں ۔ ہمارے رہنماؤں نے کبھی بھی محبت اور خیر خواہی کے انداز میں کام نہیں کیا۔ انھوں نے اس ملک کے لوگوں کو مثبت انداز میں اسلام کا پیغام نہیں دیا۔ اس میں استثناء صرف صوفیاء کا ہے۔ جلسہ میں سبھی اخباروں کے نمائندے تھے۔ ہر اخبار میں میری تقریر کی رپورٹنگ ہوئی ۔ روزنامہ نو کرم یگ (بانده) یکم جنوری ۱۹۹۶ کا شمارہ راگھ وندرسجان نے مجھے لاکر دیا۔ اس کا ایک پیرا گراف یہ تھا: " مولانا وحید الدین خاں نے کہا کہ سبھی دھرم میں محبت اور انسانیت کی باتیں ملتی ہیں۔ اسلام کو مسلمانوں سے نہیں بلکہ مسلمانوں کو اسلام کی کسوٹی پر جانچاجاناچاہیے " اس جلسہ میں زیادہ تر دیہات کے لوگ آئے تھے۔ منتظمین میں سے ایک صاحب نے کہا کہ اس کا مقصد دراصل عوام کو موبائلائز کرنا ہے۔ اس کے بہت سے سماجی اور اخلاقی فائدے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایک جاہل عورت سے میں نے پوچھا کہ تم نے یہاں آکر کیا پایا۔ اس نے کہا کہ میں نے تو یہ پایا کہ 'ہندو مسلم سب ایک ہیں اور ہمیں ایک بن کر رہنا ہے اس طرح انھوں نے کہا کہ یہاں ہرذات
‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues